غبارہ اپنے رنگ سے نہیں اڑتا۔
زمانے کی آنکھ اکثر باطن کی گہرائی تک نہیں دیکھ پاتی، ظاہر کا مشاہدہ کر کے ہی سارے فیصلے کر لیتی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں جن کو بصارت کے ساتھ بصیرت سے دوسروں کا مشاہدہ کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ ظاہری شکل و صورت سے کسی بھی چیز کے بارے میں فیصلہ کر لینا سطحی سوچ کر فروغ دیتا ہے۔ اگر آپ کسی کتاب کی ظاہری ہیئت سے اس کی اصل قدرو قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکتے تو انسان کا ظاہر دیکھ کر بھی اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں قائم کرنی چاہئے۔ اگر کسی کی ظاہری شخصیت دیکھ کر ہی ہمارا پہلا تاثر اس کے بارے میں ہماری حتمی رائے بن جاتی ہے تو ہمیں خود اپنے باطن کے تزکیے کی اشد ضرورت ہے۔
بدقسمتی سے ظاہری شکل و صورت کو اہمیت دینے کا رواج اس قدر عام ہے کہ ہم خود بھی اپنے باطن کی طاقت سے بے خبر رہتے ہیں اور خود کو بھی ویسے ہی دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے دوسروں کی سطحی بینائی نے ہمیں پرکھا ہوتا ہے۔
کئی سال قبل، ایک ادھیڑ عمر شخص ، شکاگو کی ایک گلی کے نکڑ میں غبارے بیچ کر گزر بسر کرتا تھا۔ اس کے کاروبار میں عروج و زوال آتا رہا۔ وہ بچوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے، اکثر اوقات چند غباروں میں ہیلیم گیس بھر کے دھاگا باندھ کر اوپر چھوڑ دیتا۔ گلابی اور سفید غبارے ہوا میں جھولتے تو بچے ان خوش رنگ غباروں کو دیکھ کر خریدنے کے لیے فورًا اس کے پاس آ جاتے اور یُوں وہ اچھی کمائی کر لیتا۔ ایک روز ایک چھوٹا حبشی بچہ گلی میں ٹکٹکی باندھے غبارہ فروش کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ہوا میں معلق ان خوب صورت غباروں کو بڑی دلچسپی سے دیکھتا رہا۔
دِن کے اختتام پر، وہ حبشی بچہ کچھ ہچکچاتے ہوئے غبارہ فروش کے پاس آیا اور اس کے بازو کو پکڑ لیا۔ غبارہ فروش سے نظریں مِلا کر اس نے سوال کیا،
” جناب، اگر آپ اس سیاہ غبارے میں ہوا بھریں گے تو کیا یہ بھی اُڑے گا؟
اس بچے کی معصومیت سے متاثر ہو کر غبارہ فروش نے پیار بھرے انداز میں سمجھاتے ہوئے جواب دیا،
” بیٹا، غبارہ اپنے رنگ کی بدولت نہیں اڑتا، بلکہ جو گیس اِن غباروں کے اندر ہے، وہ انہیں اُڑا رہی ہے۔”
🌹 Sharing is Caring 🌹