عمل سے زندگی بنتی ہے


یونانی اساطیر کے مطابق، جنگجو بادشاہ تھیسیئس کے پاس ایک مشہور جنگی جہاز تھا جو کئی معرکوں میں فتح یاب ہوا۔ لوگ اسے بہت احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
لیکن ہر کمال کو زوال ہے؛ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاز کے مختلف حصے خراب ہونے لگے۔ جو تختے خراب ہوتے گئے، ان کی جگہ نئے لگائے جاتے رہے۔ رفتہ رفتہ کیل، رسے، بادبان اور دیگر حصے بھی بدلنے پڑے۔ بالآخر جہاز کے تمام پرانے حصے بدل دیئے گئے۔

اب ایک فلسفیانہ بحث کا آغاز ہوا؛
کیا یہ بدلا ہوا بحری جہاز وہی تھیسیئس کا ’اصلی جہاز‘ ہے؟
اگر ایسا نہیں ہے تو کس مقام پر یہ اصلی جہاز نہیں رہا؟
اگر کوئی پرانے شکستہ تختوں کو جمع کر کے دوسرا بحری جہاز بنا لے تو پھر کون سا جہاز ’اصلی‘ ہے؟

وہ جہاز جس کے تمام پرزے بدلے جا چکے ہیں؟
یا وہ جہاز جو اصل پرزوں سے دوبارہ بنایا گیا؟
یا اصل وہ ہے جو ذہنی تصور میں ہے؟

یعنی کسی چیز کی حقیقت یا شناخت کس طرح ممکن ہے؟


ریت کے کتنے ذرے مل کر ’ڈھیر‘ بنتا ہے؟
ایک ذرہ تو ڈھیر نہیں ہے، دو ذرے بھی ڈھیر نہیں کہلائیں گے۔ لیکن آپ مسلسل ایک ایک ذرہ شامل کرتے جائیں تو کون سا وہ خاص ذرہ ہے جس کے شامل ہوتے ہی ’ڈھیر‘ وجود میں آ جاتا ہے؟
ایسا کوئی خاص ذرہ نہیں ہے۔ یہی اس مسئلے کی پیچیدگی ہے۔
یعنی، اکثر ہم اندازے لگا کر چیزوں کے بارے میں فیصلے کر لیتے ہیں۔ اگر ہم باریکی سے دیکھیں تو ان چیزوں کی کوئی قطعی اور حتمی سرحد نہیں ہے۔


اگر اسی گہرے سوال کو ذہن میں رکھ کر ہم انسان کو پرکھیں ، تو پھر اس کی اصل کیا ہو گی؟

کیا ہم وہ ہیں جو ہم ماضی میں تھے؟
لیکن ماضی تو ہماری کہانی کا حصہ ہے، ہماری اصل نہیں ۔
تھیسیئس کے جہاز کی طرح ہمارے جسم کے خلیات بھی سات سے دس برس میں تقریبا مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں یعنی ہم تخریب اور تعمیر کے مسلسل عمل سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہمارے جسم، خیالات، یادیں اور عادتیں سب یکسر بدل گئے ہیں تو پھر ہم دوبارہ پیدا ہوئے ہیں یا از سرِ نو تعمیر ہوئے ہیں؟

یہ ٹوٹ پھوٹ جو مجھ میں دکھائی دیتی ہے
دوبارہ بننے کی کوشش ہے انہدام نہیں

(شاعر: عرفان ستار)


ہیراقلیطوس بھی اسی حقیقت پر یوں روشنی ڈالتا ہے؛
’کوئی بھی شخص ایک دریا میں بارِ دگر قدم نہیں رکھ سکتا۔ کیونکہ نہ وہ دریا ویسا رہتا ہے اور نہ وہ شخص وہی رہتا ہے۔‘

وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوچ، رویے اور مقصد سبھی کچھ بدلتا رہتا ہے۔ ماضی ہمیں بناتا ضرور ہے، مگر ہم فقط ماضی نہیں ہیں۔

پھر کیا ہم وہ ہیں، جو ’اس وقت‘ ہم ہیں؟
اگر اصل صرف لمحہ موجود ہے تو ہر تبدیلی کے ساتھ انسان کی اصل بھی بدل رہی ہے۔ تو پھر ہم وہ بھی نہیں ہیں، جو ہم ’اس وقت‘ ہیں۔ ہم مسلسل حالت سفر میں ہیں۔ ہمارا ماضی، ہماری یادیں، ہماری حسرتیں، ہمارے سیکھنے کا سفر سب ہمارے اندر جاری ہے۔

پھر شاید ہم وہ ہیں، جو ہم اپنے بارے میں کوئی ’تصور‘ رکھتے ہیں؟
اپنے بارے میں ہمارا ’تصور‘ ہماری شخصیت کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ زندگی کی سمت اور فیصلے ہمارا سیلف امیج طے کرتا ہے۔ بہرحال ’سیلف امیج‘ بھی ہمیشہ حققیت نہیں ہوتا۔ صرف دوسرے ہی نہیں بلکہ ہم بھی خود کو انڈر یا اوورایسٹیمیٹ کرتے ہیں۔ اس لیے، ہم وہ بھی نہیں ہیں جو ہم اپنے بارے میں سمجھتے ہیں۔


دراصل ہم ان تینوں کا ملاپ ہیں۔
ہمارا ماضی ہماری بنیاد ہے لیکن وہ ہمیں مکمل ڈیفائن نہیں کرتا۔ ہم اس وقت جو ہیں، وہ ہماری موجود حالت ہے لیکن یہ بھی ہماری مکمل تصویر نہیں۔ اور پھر خود کے بارے میں ہمارا اپنا تصور بھی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔


انسانی وجود ایک مستقل حالت نہیں، ایک مسلسل سفر ہے۔ ہم سب ’بننے‘ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہماری سانس چل رہی ہے تو ہماری تکمیل کا سفر بھی جاری ہے۔ ہم ہر سانس کے ساتھ نہ صرف اپنی کہانی لکھ رہے ہیں بلکہ اپنی ذات کا کردار بھی تخلیق کر رہے ہیں۔ ہمارا ہر فیصلہ اورتجربہ ہمیں بدل رہا ہے۔
زندگی کو زندہ دلی سے جینے کا عمل ہی دراصل منزل ہے۔ یہی ’عمل‘ ہی ہماری ’میں‘ تخلیق کرتا ہے۔ یہی عمل ہمارا جہنم اور ہماری جنت ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

(شاعر: علامہ اقبال)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top