✍️ شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا

بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد
کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا

تھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسند
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
​ بعض نسخوں میں “تھی” کی جگہ “ہے” اور بعض میں “اے” بھی چھپا ہے، حسرت موہانی اور طباطبائی کے نسخوں نیز بعض دوسرے نسخوں میں “اے” ہی چھپا ہے۔ اس “اے” کی مثال غالب کے اس مصرع میں بھی کسی قدر رہتی ہے؛
؎ اے نالہ نشانِ جگر سوختہ کیا ہے

دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا


شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

​یعنی مجنوں کی تصویر بھی کھینچی ہے تو ننگی ہی کھینچی ہے، اس حال میں بھی مشقِ دشمنِ سر و ساماں ہے، شوق سے مراد عشق ہے، ہر رنگ کے معنی ہر حال میں اور ہر طرح سے، اگر یوں کہیئے کہ شوق ہر طرح رقیبِ سر و ساماں نکلا جب بھی مصرع موزوں تھا، لیکن تصویر کے مناسبات میں سے رنگ کو سمجھ کر ہر رنگ کہا اور ہر طرح و بے طرح کو ترک کیا، مناسبات کے لئے محاورہ و لفظ چھوڑ دینا اچھا نہیں اور رقیب کے معنی دشمن کے لئے ہیں۔


زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا

​یعنی زخمِ دل نے بھی کچھ تنگیِ دل کی تدبیر نہ کی اور زخم سے بھی دل تنگی کی شکایت دفع نہ ہوئی کہ وہی تیر جس سے زخم لگا وہ میری تنگیِ دل سے ایسا سراسیمہ ہوا کہ پھڑکتا ہوا نکلا، تیر کے پر ہوتے ہیں اور اڑتا ہے، اس سبب سے پر افشانی جو کہ صفتِ مرغ ہے، تیر کے لئے بہت مناسب ہے، مصنف مرحوم لکھتے ہیں یہ ایک بات میں نے اپنی طبیعت سے نئی نکالی ہے، جیسا کہ اس شعر میں۔

​نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں
وہ زخمِ تیغ ہے جس کو دل کشا کہیئے

​یعنی زخمِ تیر کی توہین بسبب ایک رخنہ ہونے کے اور تلوار کے زخم کی تحسین بسبب ایک طاقِ سا کھل جانے کے۔


بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

​یعنی تیری بزم سے نکلنا پریشانی کا باعث ہے، پہلے مصرع میں سے فعل اور حرفِ تردید محذوف ہے، یعنی پھولوں کی مہک ہو یا شمعوں کا دھواں ہو یا عشاق کی فغاں ہو۔


دل حسرت زدہ تھا مائدۂ لذت درد
کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا

​یعنی جس میں جتنی قابلیت تھی اُس نے اسی قدر مجھ سے لذتِ درد کو حاصل کیا، ورنہ یہاں کچھ کمی نہ تھی، کام کا لفظ لب و دنداں کے ضلع کا ہے۔


اے نوآموز فنا ہمت دشوار پسند
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

​اے ہمت تو باوجود یہ کہ ابھی نو آموزِ فنا ہے، کس آسانی سے مرحلۂ فنا کو طے کر گئی، ہمت کو دشوار پسند کہہ کر یہ مطلب ظاہر کرنا منظور ہے کہ میری ہمت خوف و خطر میں مبتلا ہونے کو لذت سمجھتی ہے یہ کام اشارہ ہے فنا کی طرف یعنی ہم جانتے تھے کہ جان دینا بہت مشکل کام ہے مگر افسوس ہے کہ وہ بھی آساں نکلا۔


دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

​یعنی جس گریہ پر میرا ضبط ایسا غالب تھا کہ میں اُسے قطرہ سے کم سمجھتا تھا، اب وہ طوفان بن کر مجھ پر غالب ہو گیا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ آنسو کا جو قطرہ کہ آنکھ سے نکلا نہ تھا وہ اب طوفان ہو گیا۔


کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا

ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا

کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا

کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
نقش ہر ذرہ سویداۓ بیاباں نکلا

شور رسوائی دل دیکھ کہ یک نالۂ شوق
لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا

شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا

جوہر ایجاد خط سبز ہے خود بینیٔ حسن
جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا

میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top