✍️ شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا

بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا


شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا

​مرغوب آیا، یعنی مرغوب ہوا، مشکل پسند بت کی صفت ہے محض قافیہ کے لئے حاصل اس شعر کا یہ ہے کہ اُسے ایک ہتھے میں سو سو دل عاشقوں کے لئے لینا پسند ہے، پھر اس سو دل کی ایک تسبیح بھی مصنف نے بنائی ہے اور کہتے ہیں کہ گویا اُسے تسبیح کا شمار بہت مرغوب ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مصنف نے بیک کف بردنِ صد دل میں حسابِ عقودِ انامل کی طرف اشارہ کیا ہے اور عقدِ صد کی یہ شکل ہے کہ چھنگلیا کی سر کو انگوٹھے کی جڑ میں لگا کر انگوٹھا سارا اُس کی پشت پر جما دیتے ہیں، عرب میں اس حساب کا رواج تھا، رسولِ خدا نے جس حدیث میں فتنہ چنگیز و ہلاکو و تیمور وغیرہ کی نہ منب بنت جحش سے پیشین گوئی کی ہے، اس میں ذکر ہے : حضرت ایک دن ڈرے ہوئے ان کے پاس آئے اور فرمایا: “لا الہ الا اللہ ویل للعرب من شرقد اقترب الفتح الیوم من روم ، یاجوج و ماجوج مثل ھذہ” یہ کہہ کر آپ نے کلمہ کی انگلی کو انگوٹھے سے ملا کر حلقہ بنایا ڈو حبیب اور سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو روایت کر کے عقدِ تسعین کی شکل دونوں انگلیوں سے بنائی، یعنی کلمہ کی انگلی کا سرا انگوٹھے کی جڑ میں سے لگا کر انگوٹھے کو اس کی پشت پر جمادیا، فتنہ تاتار سے کئی سو برس پیشتر کی کتابوں میں بخاری وغیرہ کی یہ حدیث موجود ہے، خوارزم شاہ نے جب دیوارِ ترکستان کو کھود ڈالا جب ہی سے چنگیز و ہلاکو و تیمور کوٹی اور سلطنتِ عرب کو تباہ کر ڈالا، اس زمانہ میں شاہ خوارزم قطب الدین سلجوقی تھے۔


بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

​یعنی دنیا کی طرف سے جو بے دلی ہم کو ہے اس کی بدولت صدمۂ نومیدی و یاس کا اُٹھانا ہم کو سہل ہے، ہمیں دنیا پر خود رغبت نہیں ہے، کشود کاری کی اُمید ہو تو کیا اور نا اُمیدی ہو جائے تو کیا۔ یہ پہلے مصرع کے معنی ہوئے اور دوسرے مصرع کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا عقدۂ مشکل کشائش کو پسند آگیا، یعنی اب کبھی اس کی کشائش نہ ہوگی، اس سبب سے کہ کشائش کو اس کا عقدہ ہی رہنا پسند ہے اور پسند اس سبب سے ہے کہ ہمیں پرواہ نہیں، پھر ایسی بے نیازی کشائش کو کیوں نہ پسند آئے۔


ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا

​یعنی اسے تماشائے گل کی خواہش ہونا اُس کی بے مہری کا آئینہ ہے اور اس کی جفا جوئی کی دلیل ہے، اس وجہ سے کہ گل میں بسمل بخوں غلطیدہ کا انداز ہے، پہلے مصرع میں سے فعل محذوف ہے۔


سواد چشم بسمل انتخاب نقطہ آرائی
خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا

روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا

ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا

اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top