✍️ شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
رشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا

مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا

حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا

کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا


شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
رشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا

(ناموس عصمت دراز اور لباس میں خار کا رہ جانا باعثِ بے چین ہونے کا ہے، غرض یہ کہ اُس کے سامنے شمع بے چین ہوئی جا رہی تھی گویا اُس کے لباس میں خار تھا۔)


مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا

(یعنی اس کی خاک سے مہندی اُگتی ہے کہ اس طرح معشوق کے قدم تک پہنچ جائے۔)


حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا

(ایک دل عاشق کا اور ایک معشوق کا دونوں مل کر لبِ افسوس بن جاتے ہیں۔)


کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا

(‘کیا کہوں’ یعنی کیا کروں ‘جو کہ کھایا’ یعنی جو کچھ کھایا اور ‘کیموس’ اصطلاحِ طب میں ہضمِ جگری کو کہتے ہیں، جس سے غذا مستحیل ہو کر خون بن جاتی ہے کہتے ہیں میں نے جو کچھ کھایا ہے کیموس ہوئے وہ خونِ جگر ہو گیا یعنی بیماریِ غم میں میں نے خونِ جگر ہی کھایا اور خونِ جگر کھانا غم و غصہ کھانے کے مقام پر کہتے ہیں۔)


بت پرستی ہے بہار نقش بندی ہائے دہر
ہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا

طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
یہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا

کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
دست برسر سر بہ زانوئے دل مایوس تھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top