سچائی مسلسل حالت سفر میں ہے۔
’’سچ وہ ہے؛ جو عملی طور پر کارآمد ہو۔‘‘ (ولیم جیمز)
کون سچا ہے، کون جھوٹا ہے؟
ایک ذہین آدمی، جس کا ذہن علم و تربیت سے آراستہ تھا، ایک دن ایک گاوں میں آیا۔ اس کا ارادہ تھا؛ ایک فکری مشق اور تحقیقی مطالعے کے طور پر وہاں کے لوگوں کے مختلف نقطہ ہائے نظر کا موازنہ کرے۔
وہ سرائے میں گیا اور وہاں کے لوگوں سے گاوں کے سب سے زیادہ سچے اور سب سے بڑے جھوٹے شخص کے بارے میں دریافت کیا۔
وہاں موجود سبھی افراد اس بات پر متفق تھے؛ ’کذاب‘ نامی شخص گاوں کا سب سے بڑا جھوٹا اور ’راست گو‘ سب سے زیادہ سچا انسان ہے۔
اس نے باری باری ان دونوں سے ملاقات کی اور ہر ایک سے ایک سادہ سا سوال کیا:
’’اگلے گاوں تک پہنچنے کا بہترین راستہ کون سا ہے؟‘‘
’راست گو‘، جو ہمیشہ سچ بولتا تھا، بولا؛
’’پہاڑی راستہ۔‘‘
’کذاب‘ جو جھوٹا تھا، اس نے بھی یہی جواب دیا؛
’پہاڑی راستہ۔‘‘
ظاہر ہے، اس بات نے اس مسافر کو الجھن میں ڈال دیا۔
اس نے چند اور لوگوں سے بھی یہی سوال کیا، جو عام دیہاتی تھے۔
کچھ نے کہا؛
’’دریا کے راستے سے جاو۔‘‘
کچھ نے جواب دیا؛
’’کھیتوں کے پار سے۔‘‘
جبکہ کچھ افراد نے یہی کہا؛
’’پہاڑی راستہ۔‘‘
بالآخر، اس نے پہاڑی رستہ اختیار کیا۔ مگر اپنے سفر کی منزل کے ساتھ ساتھ، اسے گاوں کے سچے اور جھوٹے افراد کی یہ گتھی بھی پریشان کرتی رہی۔
جب وہ اگلے گاوں پہنچا اور مسافر خانے میں بیٹھے لوگوں کو اپنا قصہ سنایا تو اس نے بات یہاں ختم کی؛
’’ غالباً میں نے ایک بنیادی منطقی غلطی کی تھی۔ میں نے سچے اور جھوٹے آدمی کے نام ہی غلط افراد سے پوچھ لیے تھے۔ بہرحال میں یہاں ’پہاڑی رستے‘ سے آسانی سے پہنچ گیا ہوں۔
وہاں موجود ایک دانا شخص کہنے لگا؛
’’ماننا پڑے گا، منطقی افراد اکثر ایک خاص طرح کے اندھے پن کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں دوسروں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔
سچ یہی ہے؛ دریا کا راستہ سب سے آسان تھا۔ اسی لیے جھوٹے شخص نے پہاڑی راستے کا مشورہ دیا۔ لیکن سچا آدمی صرف سچا ہی نہیں تھا، اس نے یہ بھی دیکھا کہ آپ کے پاس ایک گدھا بھی ہے، جس کی ساتھ پہاڑی سفر مشکل نہیں رہے گا۔
دوسری طرف جھوٹا آدمی اس بات پر غور نہ کر سکا کہ آپ کے پاس کشتی نہیں ہے؛ ورنہ وہ آپ کو دریا کا رستہ ہی بتاتا۔‘‘ (ادریس شاہ)
نام‘ کی سچائی، سچائی نہیں رہتی
جب ہم کسی چیز پر نام کا ’لیبل‘ لگا لیتے ہیں تو اس چیز کو دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف اس کے ’لیبل‘ پر توجہ دیتے ہیں۔
جے۔ کرشنا مورتی کا استدلال ہے؛
جس دن آپ بچے کو کسی پرندے کا ’نام‘ سکھا دیں گے، بچہ اس پرندے کو پھر کبھی (حقیقت میں) نہیں دیکھ پائے گا۔‘‘
جب تک بچہ پرندے کا نام نہیں جانتا، وہ اسے ایک زندہ، متحرک اور پراسرار مخلوق کے طور پر پرکھتا ہے۔ نام سیکھنے کے بعد، اب وہ صرف ’نام‘ دیکھے گا۔ پرندے کا وجود، اس کی خصوصیات ، اس کی انفرادیت؛ سب نام کے پیچھے کھو جائیں گی۔
یہ ضروری ہے کہ ہم چیزوں کو ان کے ’ناموں‘ اور ’لیبلز‘ سے پرے بھی دیکھنا سیکھیں۔ ہم اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی ان کے ناموں، عہدوں اور ماضی کے حوالوں سے جانتے ہیں، اس طرح ہم ان کی موجودہ اور زندہ حقیقت دیکھ نہیں پاتے۔ اور پھر یہی دکھ ہمارے حصے میں آتا ہے۔
گھروں میں نام تھے، ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا، کوئی آدمی نہ ملا
(شاعر: بشیر بدر)
تحقیق اور مشاہدے کے بغیر لوگوں پر ’سچے‘ اور ’جھوٹے‘ کا لیبل لگا کر ہم حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ سچ کی راہ بہت بڑی رکاوٹ ’علم کا وہم‘ بھی ہوتا ہے؛ یعنی اپنی ادھوری معلومات پر یقین کر لینا۔ مسافر کا ذہن منطقی تو تھا، مگر مشاہداتی نہیں تھا۔ سچ جاننے کے لیے اسے منطق کے ساتھ، مشاہدے اور تجربے کی بھی ضرورت تھی۔
دانا شخص نے مسافر کی اسی اہم غلطی کی وجہ سے اس کی منطق پر طنز کیا تھا-
سچائی مسلسل حالت سفر میں ہے۔
سچائی کوئی جامد چیز نہیں، بلکہ یہ مشاہدے، نیت اور حالات کے امتزاج کا نام ہے۔ کوئی سفر کتنا طویل ہے، یہ محض اس رستے نے فیصلہ نہیں کرنا بلکہ؛ آپ کے پاس زادِ راہ کیا ہے، منزل پر پہنچنے کی لگن کتنی ہے، اور پھر چلنے کی رفتار کیسی ہے؛ یہ سب طے کریں گے کہ آپ کا رستہ کتنا دشوار گزار ہے۔
مسافر اس الجھن میں تھا؛ سچے اور جھوٹے کا جواب ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ اس بات سے بے خبر تھا؛ سچ کا انحصار حالات پر بھی ہوتا ہے۔
ابن سینا کا قول ہے؛
’’کسی چیز کا علم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک اس کی وجوہات معلوم نہ ہوں۔‘‘
نقشہ زمین نہیں ہوتا۔
الفریڈ کورزیبسکی کا موقف ہے؛’ نقشہ زمین نہیں ہوتا۔ زمین کو جاننے کا واحد راستہ، اس رستے پر چلنا ہے۔‘
گوگل میپس پر راستہ دیکھنا ’علم‘ ہے، لیکن اس راستے پر خود چلتے ہوئے، اس کے نشیب و فراز کا عملی تجربہ کر کے ہی حقیقتِ مطلق سے ہی آشنا ہو سکتے ہیں۔
’’ڈیٹا معلومات نہیں ہے، معلومات علم نہیں ہے، علم فہم نہیں ہے اور فہم دانائی نہیں ہے۔‘‘ (کلِفورڈ سٹول)
🌹 Sharing is Caring 🌹