سوال وہی ہیں تو جواب بدل کر دیکھیں۔


آسکروائلڈ نے کہا تھا،
’’ہر پارسا کا کوئی ماضی بھی ہوتا ہے— اور ہر گنہگار کا کوئی مستقبل۔‘‘
یاد دکھیے، ہمارے آس پاس اِنسان ہی بستے ہیں جیسے ہم ہیں۔ وہ ہماری طرح ٹوٹتے، بنتے، بکھرتے ہیں۔ اُن کے بارے میں فوراً کوئی غلط رائے مت بنائیں۔

روڈنی ڈینجرفِیلڈ کہتا ہے،
’’ میں نے اپنے سائیکالوجِسٹ کو بتایا؛ ہر اِنسان مُجھ سے نفرت کرتا ہے۔ تو اُس نے مجھ سے کہا، میں احمقانہ بات کر رہا ہوں کیوں کہ میں ابھی ’ہر اِنسان‘ سے مِلا ہی نہیں۔‘‘
اِس لیے، پہلے ہر ایک سے مِل لیجئے، پھر بدگمانی رکھیے۔

ذرا اِس جملے میں بے چارگی ملاحظہ کیجیے؛
’’ میری ( کتابِ زیست کی پُوری ) کہانی کو محض اس باب پَر نہ پرکھو، جو تمہاری نظروں سے گزرا ہے۔‘‘

لوگوں کے ماضی کو فقط اپنے تجسس کی بے جا تسکین کے لیے مت کریدئیے۔ پردہ پوشی کیجیے۔ اگر آپ تسلیم کیے بیٹھے ہیں؛ زمانہ خراب ہے، تَو خُود کو بھی شامل کیجئے کیوں کہ آپ اسی زمانے کا حصہ ہیں۔
بالفرض، آپ نے خُود کو زمانے سے الگ اور برتر سمجھ لیا ہے تو جو آپ کی دسترس میں ہیں، اُن کی اصلاح کی کوشش کیجیے۔ کوئی غلط روش پہ چَل رہا ہے اور آپ کے بس میں ہے تو اُسے سمجھائیے، وہ کہاں غلط ہے لیکن اگر آپ یہ بھی نہیں کر سکتے تو خود کو مُوردِالزام ٹھہرائیے یا پھر کسی کو بھی نہیں۔

ایک سٹوڈنٹ نے آئن سٹائن سے سوال کِیا تھا،
’’ کیا یہ سارے سوال وہی نہیں، جو گزشتہ برس کے پرچے میں بھی آپ نے دیئے تھے۔‘‘
آئن سٹائن کا جواب تھا،
’’ہاں، (وہی ہیں)۔ مگر اِس سال ان کے جواب مختلف ہیں۔‘‘

آپ بھی اپنے سوالوں اور جوابوں پر نظر ثانی کیجیے۔ کیوں کہ کبھی زندگی کا سوال بدل جاتا ہے اور کبھی جواب۔
آپ کو شکوہ ہے، اِس دُنیا میں کوئی کسی کا اچھا دوست نہیں، تو جواب بدل دیجیے؛ آپ کسی کے اچھے دوست بن جائیے۔
اگر کوئی دیانت دار نہیں ہے تو خُود کو دیانت دار بنانے کے بعد یقین کر لیجیے کہ دُنیا سے ایک بددیانت کی کمی ہوگئی ہے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top