✍️ سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا


سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

​اس شعر میں عشق کو برق اور ہستی کو خرمن سے تشبیہ دی ہے کہتے ہیں رہنِ عشق بھی ہوں اور جان بھی عزیز ہے میری دہائی ہے جیسے کوئی آتش پرست برق کی پرستش بھی کرے اور خرمن کے جل جانے کا افسوس بھی کرے، پہلے مصرع میں فعل ‘ہوں’ محذوف ہے حاصل کے معنی خرمن۔ ناگزیرِ الفتِ ہستی ہوں یعنی جان کو عزیز رکھنے پر مجبور ہوں جس طرح یہ کہتے ہیں کہ فلاں امر ناگزیر ہے یعنی ضرور ہے اسی طرح فارسی میں یوں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص از فلان ناگزیر است۔


بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

​ساحل کی تشنگی مشہور ہے اور اس کا کج ہونا خمیازہ کی صورت پیدا کرتا ہے اور خمیازہ خمار کی علامت ہے مطلب یہ ہے کہ شراب پلانے میں جس قدر تیرا حوصلہ بڑھا ہوا ہے پینے میں اسی قدر میرا ظرف بڑھا ہوا ہے۔



ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا

نگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینی
تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا

شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا

سراسر تاختن کو شش جہت یک عرصہ جولاں تھا
ہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا

مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالب
عصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top