✍️ ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا

بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا

نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا

کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
کرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا

اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا

ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا


ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا

​کسی شے کو طاق پر رکھنا یا بالائے طاق رکھ دینا محاورہ ہے اس کا خیال ترک کر دینے کے معنی پر اور طاقِ نسیاں پر رکھنا اور بھی زیادہ مبالغہ ہے اور یہاں گلدستہ کے لفظ نے یہ حسن پیدا کیا ہے کہ گلدستہ کو زینت کے لئے طاق پر رکھا کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ باغ کو بمقامِ تحقیر گلدستہ سے تعبیر کیا ہے، یہ بھی حسن سے خالی نہیں لیکن یہ حسن بیان و بدیع سے تعلق رکھتا ہے، معنوی خوبی نہیں ہے۔


بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا

​یعنی سوزنِ مژگاں نے ایسی کاوشیں کیں کہ میرے جسم میں ہر ایک قطرۂ خوں تسبیحِ مرجاں کا دانہ بن گیا ہے یعنی ہر قطرۂ خون سوراخ پڑ گیا۔


نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

​دستور ہے کہ کسی کے رعب و سطوت کے اظہار کرنے کے لئے جو مرعوب ہو جاتا ہے وہ اپنے دانتوں میں گھاس پھوس اٹھا کر دبالیتا ہے تاکہ وہ شخص اسے اپنا مطیع و مغلوب سمجھے اور قصدِ قتل سے باز آئے، شاعر کہتا ہے کہ قاتل کے رعب و سطوت سے بھی میری نالہ کشی نہ موقوف ہوئی میں نے جو تنکا اظہارِ رعب کے لئے دانتوں میں دبایا وہ ریشۂ نیستاں ہو گیا اور یہ ظاہر ہے کہ نیستاں میں نے پیدا ہوتی ہے اور نے صاحبِ نالہ ہے غرض کہ وہ تنکا نالہ کشی کی جڑ ہو گیا۔


دکھاؤں گا تماشا دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سرو چراغاں کا

​یعنی ایک ایک داغ سے نالۂ پُر شر نکلے گا جو سروِ چراغاں سے مشابہ ہوگا تو گویا داغِ دل وہ بیج ہے جس سے سروِ چراغاں اُگے گا۔


کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
کرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا

​یعنی جس طرح آفتاب کے سامنے شبنم نہیں ٹھہر سکتی اسی طرح تیرے مقابلے کی تاب آئینہ خانہ نہیں لاسکتا آئینہ خانہ کی تشبیہ شبنمستاں سے تشبیہ مرکب ہے۔


مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا

​یعنی میں وہ دہقاں ہوں جس کی سرگرمیِ خود اُسی کے خرمن کے لئے برق کا کام کرتی ہے یعنی خرمن کو جلا ڈالتی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حرارتِ غریزی جو کہ باعثِ حیات ہے خود وہی ہر وقت تحلیل و فنا بھی کر رہی ہے۔ ہیولیٰ بمعنی مادہ اور مصنف نے صورت کی لفظی مناسبت سے استعمال کی ہے اور تعمیر سے تعمیر جسم خاکی مقصود ہے خونِ گرم یعنی ہوئی سرگرمی۔ اس شعر میں جو مسئلہ طب مصنف نے نظم کیا ہے اُسے آگے بھی کئی جگہ باندھا ہے۔


اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

​سبزہ سے مراد سبزۂ بیگانہ ہے اس سبب سے کہ جو سبزہ بے موقع اُگتا ہے اُسے سبزۂ بیگانہ کہتے ہیں اور گھر میں سبزہ کا اُگنا بے موقع ہے تو مراد مصنف کی یہ ہے کہ ویرانی کی نوبت یہ پہنچی ہے کہ سبزۂ بیگانہ میرے گھر میں اُگا ہے اور دربان کا کام ہے کہ بیگانہ کو گھر کے اندر سے نکال دے، تماشا کر یعنی یہ سیر دیکھ۔


خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا

​خاموش آدمی کو بے زبان کہتے ہیں اور چراغ کی لو کو زبان سے تشبیہ دیتے ہیں تو بجھے ہوئے چراغ کو بے زبان آدمی کے ساتھ مشابہت ہے اور اسی طرح سے خوں گشتہ آرزوؤں کو گورِ غریباں سے مشابہت ہے۔


ہنوز اک پرتو نقش خیال یار باقی ہے
دل افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

​ہنوزکی لفظ سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ خیالِ بھلانے پر بھی کچھ پرتو اس کا باقی رہ گیا ہے اور اس پرتو میں بھی یہ نور ہے کہ دلِ پر حسرتِ زندانِ یوسف کا عالم ہے اور اس شعر میں لفظ افسردہ سے دل کا حجرہ ہونا ظاہر ہوا اور خیالِ یار کے بھلانے کا سبب بھی اسی لفظ سے پیدا ہے یعنی جب دل افسردہ ہوا تو پھر خیالِ یار کیسا اور افسردگی کو تنگی لازم ہے، اس سبب سے حجرہ اُسے کہا کہ تنگ کوٹھری کا نام حجرہ ہے۔


بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا

​مصنف کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ رقیب کی بغل میں جو چپکے چپکے ہنس رہا ہے مجھے وہ ہنسی خواب میں دکھائی دے رہی ہے اور اسی ہنسی کا انداز دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ اس انداز کی ہنسی وصل ہی کے وقت ہوتی ہے ورنہ تو میرے خواب میں آکر میرے ساتھ تبسمِ پنہاں کرے میرے ایسے نصیب کہاں۔


نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

​لہو پانی ایک ہونا رونے کے معنی پر ہے یعنی تیری آنکھ میں آنسو دیکھنے کی تاب کس کو ہے اور اشارہ اس بات کی طرف بھی کیا ہے کہ مژگانِ معشوق جو ہمیشہ دل و جگرِ عشاق میں کھٹکا کرتی ہے اُس کا آنسو وہی آنسو ہیں جو عشاق کے دل میں پیدا ہو کر آنکھوں کی طرف جایا چاہتے تھے یعنی تیری پلکوں پر جو آنسو ہیں وہ تیرے دل سے نکلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ یہ آنسو وہی ہیں جو عشاق کے دل و جگر میں پیدا ہوئے تھے اور تیری مژہ پر آنسو ہونا اس کی علامت ہے کہ عشاق کا لہو پانی ایک ہو گیا۔


نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا

​یعنی جس راہِ فنا میں تمام اوراقِ عالم سلے ہوئے ہیں ان سے بھولا ہوا نہیں ہوں یعنی فنا ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے ہے۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top