سب یقینوں کا ہر گمان کا رب


سب یقینوں کا ہر گمان کا رب
خواب خوشبو کا اور چٹان کا رب

لفظ کو زندگی بھی اس نے دی
ہے جو مخلوقِ بے زبان کا رب

خواہشیں ہیں زمین کے سینے میں
دشت کا رب ہے گلستان کا رب

ہاتھ کو اختیار دیتا ہے
شیر بکری کا اور مچان کا رب

تِیر پیغام بن کے ملتے ہیں
حُکم کرتا ہے جب کمان کا رب

علم کا نشہ یا وجودِ ترنگ
تھام لیتا ہے بے دھیان کا رب

وہ جو آفاق میں بشارت تھی
میرا رب ہے اسی اذان کا رب


( شاعر: محمد طیب )

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top