زندگی کمانے میں زندگی جینا نہ بھولیں۔

بہتر زندگی کے حصول کی خواہش ایک فطری عمل ہے۔ انسان اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے زندگی کی سہولیات تک رسائی کے لیے کوشش میں لگا رہتا ہے۔ مگر ’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘ کے اصول کو صحیح مان کر ھم دنیا کمانے کی تگ و دو میں ھی مگن رہتے ہیں تو ہماری جیت انا کے مارے اسی انسان کی جیت جیسی ہوتی ہے جو جنگ تو جیت جاتا ہے لیکن اندر سے خود کو ہار چکا ہوتا ہے۔
زندگی بنانے کی کوشش میں زندگی گزارنے کے لیے وقت ہی نہ نکالنا خسارہ ہی خسارہ ہے۔ مادی خواہشات کے پیچھے مسلسل بھاگتا ہوا انسان ہر لمحہ مشین بن کر ہی گزارتا ہے اور جینے کے لطف کو موخر کرتا ہوا آخر کارماضی کی نذر ہو جاتا ہے۔
ان خواہشات کو پوری کرتے ہوئے اگر انسان اپنے اخلاقی اصول قربان نہ کرے اور اپنے پیشے کی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھ کر آگے بڑھتا رہے تو وہ عالم ذات میں درویش بن کر جیتا ہے۔ اور اس کی بے نیازی پر دنیا بھی رشک کرتی ہے۔


ممتاز سائنس دان لُوئی آگاسز نے نیچرل ہسٹری کی سٹڈی عام کرنے کے لیے بھرپور جتن کیے۔ یہ یورپی سائنس دان تحصیل علم سے فراغت کے بعد 1840ء میں امریکہ گیا تو وہیں مقیم ہو گیا۔ 1848ء میں ہارورڈ میں پروفیسر تعینات ہُوا تو اگلے پچیس برس وہ اُدھر ہی پڑھاتا رہا۔ جب اسے کہیں مقرر بنا کر مدعو کیا جاتا تو اپنے مطلوبہ سائنسی مقاصد کے حصول سے بھٹک جانے کے خوف سے وہ بسا اوقات ایسی دعوتیں مسترد کر دیتا۔وہ اپنا وقت اپنے تدریس کے شعبے کو دے کر ہی مطمئن رہتا۔اس لیے وہ دیگر مصروفیات کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ ایک بار جب اُسے سائنس دانوں کی ایک جماعت میں تقریر کرنے کی درخواست کی گئی تو اُس نے حسبِ عادت معذرت کر لی۔ دعوت دینے والے شخص نے مزید اصرار کیا اور غیر رضا مند سائنس دان کو یہ لالچ دیا کہ اس مقصد کے لیے اسے بھاری معاوضہ بھی دیا جائے گا۔

آگاسِز نے یہ دلیل دے کر پھر سے انکار کر دیا ۔
۔ ” میرے پاس اِتنا وقت نہیں کہ اِسے صرف پیسے کمانے میں ضائع کر دوں۔” ۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top