رونے میں مدد کریں
کسی افسردہ شخص کو تسلی دینا اور اس کا غم بانٹنا انسان کا مرتبہ بلند تر کر دیتا ہے۔ لیکن بعض اوقات غم ایسا گہرا ہوتا ہے، لفظی تسلی کم پڑ جاتی ہے۔ غم سے ستائے ہوئے ایسے شخض کی حالت اُس خستہ دیوار کی مانند ہوتی ہے، اِدھر تسلی بھرے الفاظ کا آسرا ملا اور اُدھر دیوار زمین پر آ پڑی۔
تب شاید کچھ زیادہ اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے شخص کو پُر سکون کرنے کے لیے اپنا کندھا پیش کرنا اور اس کے آنسووں کی داستان تب تک سننا ضروری ہو جاتا ہے، جب تک وہ ساری داستانِ غم نہ کہہ دے۔ ورنہ اُس کے آنسووں میں ہکلاہٹ رہتی ہے، اور ہچکیاں رُکنے کا نام نہیں لیتیں۔
ایسے میں ان کے آنسووں میں لُکنت نہ آنے دیں۔
رونے میں ان کی مدد کریں۔
مصنف اور لیکچرر لِیو بسکائِیہ نے ایک بارکسی مقابلے کا ذکر کیا جس میں اس نے جج کے فرائض انجام دیئے تھے۔ اس مقابلے میں” موسٹ کیئرنگ چائلڈ” کا انتخاب کرنا تھا۔ یہ ٹائیٹل چار سالہ بچے نے جیت لیا، جس کے پڑوس میں ایک بڑے میاں کی زوجہ کا حال ہی میں انتقال ہُوا تھا۔ بڑے میاں کا صدمہ بے حد گہرا تھا اور وہ مسلسل آہ و زاری کر رہے تھے۔ یہ درد بھری آہیں سُن کر ننھا فرشتہ سیدھا اُن کے گھر گیا، ان کی گود میں چھلانگ لگائی اور فوراً اُن کے کندھے کے ساتھ لگ گیا۔
جب واپس آیا تو ماں نے پوچھا؛
اُس نے بڑے میاں کو کیسے چُپ کرایا۔
اُس معصوم نے جواب دیا۔
” میں نے اور کچھ نہیں کیا، بس رونے میں اُن کی مدد کی۔”
🌹 Sharing is Caring 🌹