✍️ ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا

مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا

منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا

دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا

درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا

گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا

تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا

ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا


ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا

(یعنی وہ بھی عاشق ہو گیا اس سبب سے ایک تو ذکر ہی دل فریب، دوسرے اُس شخص کی زبان سے جو فریفتہ ہو رہا ہے اور پھر سحر بیاں بھی ہے۔)


مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا

(یعنی مے کشی میں اُن کو اپنا امتحان منظور تھا کاش کہ میرے ساتھ شراب پی کر بے ہوش ہوئے ہوتے، شکایتِ خدا سے یہ ہے کہ آج ہی اُس کے دل میں یہ بات آنا تھی، یہاں پی گئے کے مقام پر پیتے مصنف مرحوم نے باندھا ہے جس سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ بھلا بزمِ غیر میں وہ کیوں بہت سی شراب پیتے، یہ میری بدقسمتی ہے کہ آج میرے گھر میں آئے تو بہت سی شراب پی گئے۔)


منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا

(یعنی کاش کہ ہمارا مکاں عرش سے اس طرف ہوتا کہ ہم عرش پر منظر بنا کر اپنے مقام کو دیکھ سکتے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے مکان سے بلند کوئی جگہ ہی نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت و ماہیت سے بے خبر ہیں۔)


دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا

(یعنی اُن کا پاسباں بارے اپنا آشنا نکلا۔)


درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا

(خامہ کا خونچکاں ہونا ایک تو مضمونِ خونچکاں کے سبب سے ہے، دوسرے انگلیوں کے فگار ہونے کے سبب سے ہے۔)


گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
ننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا

(یعنی میں اتنے سجدے کرتا کہ پتھر گھس جاتا۔)


تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا

(یعنی تاکہ معشوق سے جا کر یہ ذکر نہ کرے کہ میں شکایت کیا کرتا ہوں۔)


ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا

(غرض یہ ہے کہ عقیل و ہنرمند دشمنیِ فلک کا باعث ہوا کرتا ہے۔)


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top