دیا جلائے رکھنا ہے۔

کہتے ہیں، ایک دیا دوسرا دیا جلانے سے اپنی روشنی نہیں کھوتا بلکہ اپنے ارد گرد سارے منظر کو روشن تر کر دیتا ہے۔ مشکل وقت میں اپنے ساتھی کی مدد سے انسان خود بھی مزید بلند ہو جاتا ہے اور یہی وہ بہادری کا عمل ہے جو کسی کی بھی زندگی بدل سکتا ہے۔ کامیابی کی چند عظیم تاریخی کہانیاں کسی عزیز یا مخلص دوست کے پیدا کردہ اعتماد یا حرفِ تسلی کی مرہون منت ہیں۔

اگر وفا شعار بیوی، صوفیہ کے پاس اعتماد کا جادوئی چراغ نہ ہوتا تو دنیائے ادب پر نیتھانیئل ہاتھورن جیسا دیو قامت شخص کیسے منظر عام پر آتا۔
اُس روز ، شکستہ دِل نیتھانیئل جب گھر لوٹا تو بیوی سے کہنے لگا؛ وہ برباد ہو گیا کیونکہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ مگر وہ حیران ہو گیا، جب بیوی نے غم کی اس خبر پر بھی خوشی کا نعرہ لگایا۔
وہ فاتحانہ انداز میں بولی، ” اب ، تم آرام سے اپنی کتاب لکھو۔”
” کیا کہا، کتاب لکھوں؟ اور لکھنے میں جتنا عرصہ لگے گا ، ہم گزارا کیسے کریں گے؟”
شوہر نے قدرے بے یقینی کی کیفیت میں سوال کیا۔
اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب بیوی نے دراز کھول کر ایک خطیر رقم نکالی۔
” ارے ، اتنی رقم کہاں سے آئی؟” اُس نے سوال کیا۔
بیوی نے وضاحت دی، ”تُم سے پہلی ملاقات میں ہی میں جان گئی تھی کہ تم ایک جینیئس ہو، اور مجھے یقین تھا؛ تُم کبھی کوئی شاہکار تخلیق کرو گے۔ ہر ہفتے، گھر کے اخراجات کے لیے تُم جو رقم دیتے، میں تھوڑی تھوڑی بچا لیتی تھی۔ اب ہمارے پاس اتنی رقم ہے کہ سال بھر کے لیے آسانی سے گزارہ ہو جائے گا۔”

یہ اس عظیم بیوی کے یقین اور اعتماد کا کرشمہ تھا کہ امریکی ادب کی تاریخ میں ” دی سکارلیٹ لیٹر” جیسے عظیم ناول کا اضافہ ہوا۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top