✍️ دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
یعنی لوگ جو دنیا میں وفا کرتے ہیں، اس کے معنی یہی ہیں کہ تسلی چاہتے ہیں، جب وفا کر کے تسلی نہ ہوئی تو لفظِ وفا بے معنی و مہمل رہ گیا، حاصل یہ کہ وفاداریِ عشاق بے معنی بات ہے۔
سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
مشہور ہے کہ زمرد کے سامنے سانپ اندھا ہو جاتا ہے، مگر تیرا سبزۂ خط ایسا زمرد ہے کہ افعیِ زلف پر اس کا اثر نہ ہوا، یعنی خط نکل آنے کے بعد بھی زلف کی دل فریبی میں فرق نہیں آیا۔
میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
یعنی مر کے غم سے پیچھا چھڑانا چاہا تو اس نے رسوائی و بدنامی کے اندیشہ سے اسے بھی گوارا نہ کیا، معنوی خوبیاں اس شعر میں بہت سی ہیں، کثرتِ اندوہ و علاج میں درماندگی اس پر بھی دل آزاری و جفاکاریِ معشوق، پھر اس حالت میں بھی اسی کی مرضی پر رہنا۔
دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
گر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا
تار اور رشتہ اور خط اور جادۂ لمس کے تشبیہات میں سے ہیں، غرض شاعر کی یہ ہے کہ اگر تقویٰ نہ حاصل ہوا تو رندی ہی سہی، قافیہ تقویٰ میں فارسی والوں کا اتباع کیا ہے کہ وہ لوگ عربی کے جس کلمہ میں ہی دیکھتے ہیں اُس کو کبھی ’الف‘ اور کبھی ’ی‘ کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔ تمنا و تمنا، تجلی و تجلٰی، تسلی و تسلٰی و ہیولیٰ و ہیولیٰ و دینی و دنیا، بکثرت ان کے کلام میں موجود ہے۔
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
یعنی اگر تو وعدۂ وصل کرتا تو جب بھی میں خوش تھا، اس وجہ سے کہ وہ عین مقصود ہے اور تو نے وعدہ نہیں کیا تو اس پر بھی میں خوش ہوں کہ احسان سے بچا اور اُس احسان سے جو کبھی نہیں اٹھایا تھا۔
کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
یعنی آخری خواہش میں نے یہ کی تھی کہ موت ہی آ جائے اُس سے بھی محروم رہا۔
مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا
اس شعر میں معنی کی نزاکت یہ ہے کہ شاعر حرکتِ لبِ عیسیٰ کو صدائے عیسیٰ کی حرکت سے مقدم سمجھتا ہے، کہتا ہے کہ میں پہلے حرکتِ لب ہی کے اوجھڑ سے مر گیا اور حریفِ دمِ عیسیٰ نہ ہوا، یعنی دمِ عیسیٰ سے معاملہ نہ پڑا اور ناتوانی کے سبب سے صدائے عیسیٰ کے سننے کی نوبت ہی نہ آنے پائی۔
نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یار
صفحۂ آئنہ جولاں گہ طوطی نہ ہوا
وسعت رحمت حق دیکھ کہ بخشا جاوے
مجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا
🌹 Sharing is Caring 🌹