دو قدم اور جستجو کر لو
انسان اپنی آخری سانس تک اپنے لیے زندگی میں چھپے معانی کی کھوج میں لگا رہتا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے؛ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے، جیسے کِسی ٹریڈ مل پر مسلسل دوڑتے چلے جانا اور دوڑنے کے اس عمل میں اکثر یہ بھی یاد نہیں رہتا، ہم چلنا تو کب کا بھول چکے ہیں۔ پھر بھی ہم خود کو کسی سروائیول مووی کا ہِیرو مان کر سفر جاری رکھتے ہیں اور اتنی تگ و دو کے بعد بھی شکست بازو پھیلائے ہماری راہ میں کھڑی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی لگتا ہے، کھوج کے اس پتھر کو اٹھانے کا یہ سفر سِسی فس کی سزا جیسا ہے، جِسے ایک پتھر روز پہاڑ کی چوٹی پر دھکیلنا پڑتا تھا۔ جیسے ہی وہ پتھر چوٹی پر پہنچتا، وہ پھِر سے نیچے کی طرف لُڑھک جاتا۔
ہم خُود کو کھوجتے ہیں۔ مقصد تلاش کرتے ہیں۔ ایک مسلسل جنگ لڑتے ہیں، جو کسی اور کو دِکھائی نہیں دیتی۔ ایک مسلسل چیخ، جو کِسی اور کو سنائی نہیں دیتی۔ ہم اپنا کِردار انتہائی لگن سے نبھاتے ہیں مگر تالی کی گونج کہِیں سنائی نہیں دیتی۔
اس بے معنی، بے ربط دوڑ کو معنی عطا کرنا ہی زِندہ دِلی ہے۔ ہار جِیت سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے، ہم آخری دَم تک اِس کھیل کو جاری رکھیں۔
برطانوی فلسفی اور ریاضی دان ’ٹامس کارلائل‘ نے اپنی مشہور کتاب ’دی فرنچ ریوولیوشن‘ کئی بَرس کی مسلسل محنت سے مکمل کی اور پھِر اس کا مسودہ نظر ثانی کے لیے ایک دوست کو دِیا۔ دوست کے گھریلو ملازم نے ردی کاغذ جلاتے ہوئے وہ مسودہ بھی غلطی سے نذرِ آتش کر دیا۔ کارلائل نے طویل مشقت کے بعد زِندگی کو جو معنی عطا کِیا تھا، وہ لمحوں میں بے معنی ہو گیا۔
اس سانحے کی خبر پا کر یقینا اس کے اندر بھی ایک خاموش چِیخ بلند ہوئی ہو گی لیکن اس نے اِس چیخ کو خاموشی سے اپنا زادِ راہ بنایا، ازسرِ نو کام شروع کیا اور اپنی کتاب دوبارہ مکمل کر لی۔
زِندگی کے گمشدہ معنی کو دوبارہ سے تلاش کرنا جِیت سے بھی آگے کی جِیت ہے۔
دو قدم رائیگاں ہُوئے تو کیا
دو قدم اور جستجو کر لو
(ساغر صدیقی)
🌹 Sharing is Caring 🌹