✍️ دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا

بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا

حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا

گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا

خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا

ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا


دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا

​پہلے مصرع میں ’کیا‘ تحقیر کے لئے ہے اور دوسرے مصرع میں استفہامِ انکاری کے لئے، یعنی میرے ناخن کاٹنے سے کیا فائدہ، کیا پھر بڑھ نہ آئیں گے۔


بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا

​کہتے ہیں تمہاری بے توجہی حد سے گزر گئی کہ میرا حال متوجہ ہو کر نہیں سنتے اور ہر بار تجاہل سے کہتے ہو کہ کیا کہا، اس شعر میں کیا محلِ شکایت میں ہے جس طرح آگے مصنف نے کہا ہے:
​تجاھلِ پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا


حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا

​صاف شعر کا کیا کہنا گو دوسرے مصرع میں ’سے‘ مگر محذوف ہے مگر خوبی یہ ہے کہ اس طرح سے اور کیا ہے کہ دیوانگی کی تصویر کھینچ گئی۔


آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا

​یعنی اگر اس کے پاس تلوار نہ ہو گی تو میں دے دوں گا۔


گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا

​’کیا‘ استفہامِ انکاری کے لئے ہے اور قید ہونا اور چھٹ جانا دونوں کا اجتماع لطف سے خالی نہیں۔


خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتار وفا زنداں سے گھبراویں گے کیا

​فاعل یعنی لفظ ’ہم‘ محذوف ہے۔


ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا

​ہمیں تو غم کھانے کا مزہ پڑا ہوا ہے اور وہی یہاں نہیں یعنی اس شہر میں ایسے معشوق نہیں جن سے محبت کیجئے۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top