✍️ دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
یعنی چپکے چپکے اس طرح جلا گیا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی، ‘گویا’ کا لفظ خاموش کی مناسبت سے ہے، ‘مانند’ کا لفظ بول چال میں نہیں ہے مگر شعرا نظم کیا کرتے ہیں۔
دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
یعنی رشک کی آگ ایسی تھی کہ معشوق کو دل سے بھلا دیا اور اس کا غیر سے ملنا دیکھ کر ذوقِ وصل جاتا رہا۔ گھر سے دل مراد ہے اور آگ سے رشکِ رقیب۔
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا
مصنف کی غرض یہ ہے کہ میری نیستی و فنا یہاں تک پہنچی کہ اب میں عدم میں بھی نہیں ہوں اور اس سے آگے نکل گیا ہوں، ورنہ جب تک میں عدم میں تھا، جب تک میری آہ سے عنقا کا شہپر اکثر جل گیا ہے، عنقا ایک طائرِ معدوم کو کہتے ہیں اور جب وہ معدوم ہوا تو وہ بھی عدم میں ہوا اور ایک ہی میدان میں آہِ آتشیں وبالِ عنقا کا اجتماع ہوا، اسی سبب سے آہ سے شہپرِ عنقا جل گیا۔ لیکن مصنف کا یہ کہنا کہ میں عدم سے بھی باہر ہوں، اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ میں نہ موجود ہوں، نہ معدوم ہوں اور نشیمن مجھ سے مرتفع ہیں، شاید ایسے ہی اشعار پر دلی میں لوگ کہا کرتے تھے کہ غالب بے معنی کہا کرتے ہیں اور اس کے جواب میں مصنف نے یہ شعر کہا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی
’پرے’ کا لفظ اب متروک ہے لکھنؤ میں ناسخ کے زمانہ سے روزمرہ میں عوام الناس کے بھی نہیں ہے، لیکن دلی میں ابھی تک بولا جاتا ہے اور نظم میں بھی لاتے ہیں، میں نے اس امر میں نواب مرزا خاں صاحب داغ سے تحقیق چاہی تھی، انھوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ لوگوں کی خاطر سے (یعنی لکھنؤ والوں کی خاطر سے) اس لفظ کو چھوڑ دیا مگر یہ کیا کہ مومن خاں صاحب کے اس شعر میں:
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ
اے شبِ ہجر تیرا کالا منہ
اگر پرے کی جگہ ادھر کہیں تو برا معلوم ہوتا ہے، میں نے کہا کہ ‘پرے ہٹ’ بندھا ہوا محاورہ ہے، اس میں ‘پرے’ کی جگہ ‘ادھر’ کہنا محاورہ میں تصرف کرنا ہے، اس سبب سے برا معلوم ہوتا ہے، ورنہ پہلے جس محل پر ‘چل پرے ہٹ’ بولتے تھے اب اسی محل پر ‘دور بھی ہو’ گیا ہے، اس توجیہ کو پسند کیا اور مصرع کو پڑھ کر الفاظ کی نشست کو غور سے دیکھا: ‘دور بھی ہو مجھے نہ دکھلا منہ’، اور تحسین کی۔
عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
تشریح: یعنی یہ کہاں ممکن ہے کہ اپنی طبیعت کی گرمی ظاہر کر سکوں فقط دوروی کا ذرا خیال کیا کہ صحرا میں آگ لگ اٹھی اور یہ مبالغہ غیر مادی ہے کہ طبیعت میں ایسی گرمی ہو کہ جس چیز کا خیال آئے وہ چیز جل جائے عرض کو لوگ جوہر کے ضلع کا لفظ سمجھتے ہیں حالانکہ جوہر کے مناسبات میں سے عرض بہ تحریک ہے نہ بہ سکون۔
دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا
دل کو کارفرما بنایا ہے اور داغوں کو چراغاں لفظ چراغاں کو چراغ کی جمع نہ سمجھنا چاہئے۔
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
دیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا
طرزِ تپاک سے تپاکِ ظاہری و نفاقِ باطنی مراد ہے اور افسردگی اور جلنا اس کے مناسبات سے ہیں۔
خانمان عاشقاں دکان آتش باز ہے
شعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا
تا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیال
دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سری
بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کر
غنچۂ گل پرفشاں پروانہ آسا جل گیا
🌹 Sharing is Caring 🌹