✍️ درد منت کش دوا نہ ہوا ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
کام گر رک گیا روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
تکلیف یہ ہے کہ نہ اچھا ہوا نہ برا ہوا، حسبِ لفظ دونوں باتوں کا نہ ہونا محال معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کی راہ سے یہاں ’اچھا‘ وہ اچھا نہیں ہے جو برے کے مقابل میں ہے بلکہ اچھا ہونا مرض کے معنی میں ہے۔
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
دستور ہے کہ چار آدمیوں کو ملتفت کر کے کسی کی شکایت کرتے ہیں تاکہ وہ انصاف کریں۔ مگر انھیں رشک کے مارے گوارا نہیں ہے کہ رقیب ہماری شکایت اُس کے منہ سے سنیں اور ہاں میں ہاں ملائیں۔
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
جب تو ہی نے قتل نہ کیا تو پھر یہ آرزو کس سے پوری ہوگی۔
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
لبِ معشوق کی شیرینی پر دلیل یہ ہے کہ حرفِ تلخ اُس کے منہ سے سن کر رقیب بوا لہوس بھی جو کہ لذتِ عشق سے محروم ہے بے مزہ نہ ہوا۔
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
اس شعر سے اہتمامِ مدارت و بے سامانی کا اظہار مقصود ہے اور مضمون کی پستی ظاہر ہے۔
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
’وہ‘ اشارہ ہے غرورِ حسن کی طرف۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
پہلے حق کے معنی سچ اور دوسرے حق کے معنی ذمہ۔
زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
کام گر رک گیا روا نہ ہوا
کام تو رُک جانے سے روا نہیں ہونا چاہئے تھا کہ زخم کے دبنے سے بھی لہو رواں نہ ہو، لیکن میرے حق میں اُس کے بر خلاف ہے ’تھما‘ کی جگہ ’پر‘ تھا اب متروک ہے۔
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
’روا نہ‘ میں ’روا‘ قافیہ ہے اور ’نہ‘ جزوِ ردیف تھا جو یہاں لفظِ روانہ کا جزو واقع ہوا ہے، اصطلاح میں ایسے قافیہ کو قافیہ معمول کہتے ہیں، قواعدِ قافیہ میں اسے عیب لکھتے ہیں لیکن اب تمام شعراء اسے صنائعِ لفظیہ میں جانتے ہیں اور بے تکلف استعمال کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ قافیہ معمولہ سے شعر سست ہو جاتا ہے۔
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
ساری غزل پڑھنے کے بعد پھر یہ کہنا کہ ’کچھ تو پڑھئے‘ یہ مطلب رکھتا ہے شاید کہ طرح میں کچھ پڑھئے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹