خُود کو اپنی قید سے رہا کریں۔

باہمی معاملات میں غلطی کوتاہی انسانی خصلت ہے مگر درگزر کرنا ایک ایسی خُوبی ہے جو تعلق کو دوام دیتی ہے۔ اگر دَرگُزر کر کے بھُول جانا ایک فن ہے تَو اِس میں حتی الامکان مہارت حاصل کرنی چاہیے ورنہ دائمی قید ہمارا مقدر بن جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے، لیوِس بی۔ سمِیڈز کہتا ہے؛
۔ ’’درگزر کرنا، کسی قیدی کو قید سے رہا کرنا ہے۔ ‘‘ ۔
تب یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ قیدی آپ خُود تھے۔

میلیچی میکورٹ کے خیال میں؛
۔ ’’ (کسی سے مسلسل) کشیِدہ خاطر رہنا ایسے ہی ہے جیسے آپ زہر تو خُود پیئیں اور انتظار کریں، کِسی اور کی موت کا۔‘‘ ۔

دُنیا میں ہر کوئی ایک خاموش جنگ لڑ رہا ہے، جِس سے ہم بے خبر ہوتے ہیں۔ اِس لیے بہتر ہے کہ ہم خود بھی تحمل کا مظاہرہ کریں اور آئندہ نسل کے لیے عملی طور پر اس کی مثال بنیں۔


ایک بار ٹرین میں سفر کے دوران ایک شخص کی کسی معمولی سی کوتاہی پر ریلوے کے درجہ چہارم کا ایک ملازم اُس کی سرزنش کرتے ہوئے گالی گلوچ تک اُتر آیا حالانکہ اس شخص نے معذرت بھی کر لی تھی۔ جب معاملہ ختم ہوا تو اُس شخص کا نوجوان بیٹا باپ سے گِلہ کرنے لگا کہ باپ نے اُس بدتمیز کو کیسے برداشت کیا۔

باپ مسکرایا اور بولا، ۔
۔ ’’اگر ایسا شخص خُود کو پُوری عُمر برداشت کر سکتا ہے تو پھِر میں اُسے پانچ منٹ تک کیوں نہیں جھِیل سکتا ۔’’ ۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top