حقیقی فاتح کبھی رکتا نہیں۔
کنساس (شہر ) میں دو بھائی ایک مقامی سکول میں کام کرتے تھے۔ ان کا کام، ہر صبح، کلاس روم میں رکھے چولہے میں آگ جلانا تھا۔
موسمِ سرما کی ایک صبح، دونوں بھائیوں نے چولہا صاف کیا اور آگ جلانے کے لیے اس میں لکڑیاں ڈالیں۔ ایک دم دھماکے سے ساری عمارت ہِل گئی۔ بڑا بھائی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہو گیا اور چھوٹے بھائی کی ٹانگیں بُری طرح جل گئیں۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ مٹی کے تیل کے ڈبے میں تیل کی بجائے پٹرول تھا۔
ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا؛ زخمی بچے کی ٹانگیں کاٹنی پڑیں گی۔ والدین غم سے نڈھال ہو گئے۔ انہوں نے ایک بچہ پہلے ہی کھو دیا تھا اور اب دوسرے بیٹے کو ٹانگوں سے محروم ہونا تھا، مگر جانے کیوں انہوں نے تقدیر پر اب بھی بھروسا کیا اور ڈاکٹر سے التجا کی کہ ابھی اس کام کو ملتوی کر دے ۔ ڈاکٹر نے بات مان لی۔
وہ ہر روز ڈاکٹر سے التجا کر کے کام آئندہ کل پر ٹالتے رہے اور دعا کرتے رہے، ان کا بیٹا صحت یاب ہو کر دوبارہ سے چلنا پھرنا شروع کر دے گا۔ دو ماہ تک والدین اور ڈاکٹر اس مسئلے پر گفتگو کرتے رہے۔ والدین نے اس دوران اپنے بیٹے کے اندر یہ یقین ڈال دیا تھا، ایک دِن وہ ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیٹے کی ٹانگیں نہیں کاٹنے دیں پَر جب پٹیاں اتاری گئیں تو معلوم ہوا کہ اس کی دائیں ٹانگ دوسری ٹانگ سے تین انچ چھوٹی ہے۔ بائیں ٹانگ کی انگلیاں تقریبًا ساری جھلس گئی تھیں۔
پھر بھی وہ بچہ حیرت انگیز طور پر پُرعزم تھا۔ سخت درد اور اذیت کے باوجود، وہ خود کو روز ورزش کرنے پر آمادہ کرتا اور بالآخر شدید تکلیف کے باوجود وہ چند قدم چل گیا۔
دھیرے دھیرے اس بہادر نے بیساکھیوں کو خیر آباد کہا اور معمول کے مطابق چلنے لگا۔
یہ پختہ عزم نوجوان دوڑتا رہا، دوڑتا رہا۔۔۔۔۔۔ اور پھر یہی ٹانگیں جو کاٹ دی جانے والی تھیں؛ ایک میل دوڑ میں، ایسی بھاگیں، کہ ورلڈ ریکارڈ بنا دیا۔
اس کا نام گلین کونننگ ہیم ہے ۔ اس عظیم انسان کو ”دنیا کا تیز رفتار ترین انسان” کا ٹائیٹل دیا گیا اور صدی کا سب سے بڑا اتھلیٹ قرار دیا گیا۔
🌹 Sharing is Caring 🌹