✍️ جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا

آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا


جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا

​یعنی ایک قیس کا نام تو صحرا نوردی میں ہو گیا، اس کے سوا کسی اور کی بہتری صحرائے حاسد چشم سے نہ دیکھی گئی، گویا کہ صحرا با وجود وسعت چشمِ حاسد کی سی تنگی رکھتا ہے، مگر یہاں شاید کے معنی رکھتا ہے۔


آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

​داغِ سویدائے دل سے ہمیشہ دودِ آہ اٹھ اٹھ کر پھیلا کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ سویدائے دل کی خلقت آشفتگی سے ہے، معنوی تعقید اس شعر میں یہ ہو گئی ہے کہ پریشانی کی جگہ آشفتگی کہہ گئے ہیں، غرض یہ تھی کہ سویدائے دل سے دودِ پریشان اٹھا کرتا ہے اور اس کا سرمایہ و حاصل جو کچھ ہے یہی دودِ آہ ہے جو ایک پریشان چیز ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ نقشِ سویدا خدا نے محض پریشانی ہی سے بنایا ہے اور یہ داغ دودِ آہ سے پیدا ہوا ہے، جبھی تو اس سے ہمیشہ دھواں اٹھا کرتا ہے۔


تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

​یعنی زمانہِ عیش اس طرح گزر گیا جیسے خواب دیکھا تھا، نہ اب لطفِ وصل ہے، نہ صدمہِ ہجر کا… کا مزا ہے۔ یوں سمجھو کہ مصنف نے اس شعر کو یوں کہا ہے، (زمانہ عیش نہ تھا بلکہ خواب میں خیال کو الخ)


لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

​غم وہ کیفیتِ نفسانی ہے جو مطلوب کے فوت ہو جانے سے پیدا ہو، مطلب یہ ہے کہ مکتبِ غم میں میرا سبق یہ ہے کہ رفت گیا اور بود تھا، یعنی زمانہ عیش کبھی تھا اور اب جاتا رہا۔


ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

​یعنی مرجانے ہی سے عیبِ برہنگی مٹا نہیں تو ہر لباس میں میں ننگِ ہستی و وجود تھا، ننگِ وجود ہونے کو برہنگی سے تعبیر کیا ہے، فقط لفظ کا مشابہ مصنف کے ذہن کو ادھر لے گیا۔


تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا

​کوہکن پر طعن ہے کہ رسم و راہ کی پابندی جو دیوانگی و آزادی کے خلاف ہے، اس قدر اس کو تھی کہ جب تیشہ سے سر پھوڑا تو کہیں مرا، اگر نشہ عشق کامل ہوتا تو بغیر سر پھوڑے مر گیا ہوتا، خمار نشہ اترنے سے جو بے کیفیتی اور بے مزگی ہوتی ہے، اسے کہتے ہیں رسوم و قیود کو بے مزہ و بے لطف ظاہر کرنے کے لئے اسے خمار سے تشبیہ دی ہے۔


عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا

بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
ہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا


عالم طلسم شہر خموشی ہے سربسر
یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا


تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا


تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا


گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
میں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا


پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگر
کس کو دماغ منت گفت و شنود تھا


خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ
سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top