✍️ جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ ✍️
جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغ جگر ہدیہ
مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغ جگر ہدیہ
مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
مشہور ہے کہ الماس کے کھا لینے سے دل و جگر زخمی ہو جاتے ہیں تو جو شخص کہ زخمِ دل و جگر کا شائق ہے، الماس اُس کے لئے ارمغاں ہے، یہ سارا شعر مبارکبادی کا مضمون ہے، کہتا ہے کہ ایسی ایسی نعمتیں اور ہدیے حسنِ عشق نے مجھے دیئے، وہ میرا غم خوار ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ غم خوار سے ناصح مراد ہے اور مبارکباد تشنیع کی راہ سے ہے۔
جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
سویدا تا بلب زنجیریٔ دود سپند آیا
مہ اختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے
تماشا کشور آئینہ میں آئینہ بند آیا
تغافل بد گمانی بلکہ میری سخت جانی سے
نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
فضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا
فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا
عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
خرام ناز برق خرمن سعیٔ سپند آیا
🌹 Sharing is Caring 🌹