✍️ جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا ✍️

جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا

( مرزا اسد اللہ غالب )


جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا

اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
جوہر آئنہ کو طوطی بسمل باندھا

یاس و امید نے یک عربدہ میداں مانگا
عجز ہمت نے طلسم دل سائل باندھا

نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا


جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا

​ذروں کی جھلملاہٹ اور تپشِ دل میں وجہِ شبہ ظاہر ہے جو حرکت و سکون سے مرکب ہے۔


اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
جوہر آئنہ کو طوطی بسمل باندھا

​’سبزۂ باغ‘ و ’سبزۂ خط‘ و ’سبزۂ زنگار‘ و ’سبزۂ جوہر‘ کو طوطی سے تشبیہ دیتے ہیں اور آئینہ فولاد کے جوہروں کی سبزی ہر ایک رُخ سے قائم نہیں ہوتی، اس سبب سے اسے طوطیِ بسمل سے تشبیہ دی کہ اس میں حرکت معلوم ہوتی ہے اور متحرک کی متحرک سے تشبیہ جس میں وجہِ شبہ بھی حرکت ہو نہایت لطیف و بدیع ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ اُس کے آئینہ فولاد میں جوہروں کی سبزی جو بعض رُخ سے دکھائی دے جاتی ہے یہ طوطی بسمل ہے جسے شوخیِ ناز سے بسمل کر دیا ہے، اسی طرح کی تشبیہ بے تابیِ ذرہ و بے قراریِ دل سے پہلے شعر میں بھی ہے اور نعمت کا مصرع چمن بے تاب، چوں طاؤس، بسمل اسی قسم کی تشبیہ رکھتا ہے۔


یاس و امید نے یک عربدہ میداں مانگا
عجز ہمت نے طلسم دل سائل باندھا

​یعنی عجزِ ہمت نے ایک طلسم بنایا ہے، جس میں یاس اور اُمید میں عربدہ بازی کا میدان گرم ہو رہا ہے، یاس چاہتی ہے میں غالب ہو جاؤں، اُمید چاہتی ہے میں بازی لے جاؤں۔ عربدہ میدان سے میدانِ عربدہ مراد ہے اور طلسم باندھنا طلسم بنانے کے معنی پر ہے، اُس کے مقابل طلسم کھولنا یعنی طلسم بگاڑنا اور توڑنا کہیں گے۔ حاصل یہ ہوا کہ ہمت جو نہیں رکھتا وہ اُمید و بیم میں مبتلا رہتا ہے۔


نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

​ساحل کی تنگی مشہور ہے، اس میں اگر اتنا مبالغہ کیا کہ سارا دریا اُس نے پی لیا اور دریا بھی ساحل بن کر خشک رہ گیا، جب بھی تشنگیِ ذوق کا مضمون نہ ادا ہوا اور دل کھول کے کوئی کام کرنا اُس کام میں مبالغہ کرنے کو کہتے ہیں۔


اصطلاحات اسیران تغافل مت پوچھ
جو گرہ آپ نہ کھولی اسے مشکل باندھا

یار نے تشنگیٔ شوق کے مضموں چاہے
ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

تپش آئینہ پرواز تمنا لائی
نامۂ شوق بہ حال دل بسمل باندھا

دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
خلوت ناز پہ پیرایۂ محفل باندھا

ناامیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
کوچۂ موج کو خمیازۂ ساحل باندھا

مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
ساز پر رشتہ پئے نغمۂ بیدلؔ باندھا

ناتوانی ہے تماشائی عمر رفتہ
رنگ نے آئنہ آنکھوں کے مقابل باندھا

نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
چوں نمد ہم نے کف پا پہ اسدؔ دل باندھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top