تَو جناب، ذرا بتائیے تو سہی، آپ کون ہیں؟


مشہُور کامیڈین مِچ ہیڈ برگ نے ایک بار سامعین کو ایک مزاحیہ واقعہ سنایا کہ جب کِسی ریڈیو سٹیشن کے ایک پروگرام میں وہ انٹرویو دینے گیا تو ڈی ۔جے نے اُس سے پہلا سوال یہ کِیا،
’’ تَو جناب، ذرا بتائیے تو سہی، آپ کون ہیں؟‘‘
مِچ ہیڈ برگ کہتا ہے، وہ چند لمحے اسی سوچ میں گھِرا رہا ،
’’ کیا یہ شخص واقعی میں اِتنا گہرا ہے، یا پھِر میں ہی غلط ریڈیو سٹیشن اِنٹرویو دینے پہنچ گیا ہُوں۔‘‘


حکمت کی ابتدا اسی سوال سے شروع ہوتی ہے کہ ’آپ کون ہیں؟‘۔ یہ ایسا سوال ہے جو انسان کی شناخت، وجود، شعور، درد، خواہشات اور یادداشت سب کو ایک ساتھ بیدار کردیتا ہے۔ یہ سوال انسان کے لاشعور کی دہلیز پر دستک دیتا ہے تا کہ وہ اپنی حقیقی ذات سے ملاقات کر لے۔ یہ سوال انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتا ہے جس میں وہ پہلی بار خود کو دیکھ پاتا ہے۔ اس سوال کا جواب خارجی توقعات کو مسترد کر کے اپنے سچے نفس کو اپنانے میں پوشید ہ ہے۔ یہی وہ سوال ہے، جس کی کھوج میں نکل کر انسان خودی کے اس مرتبے تک پہنچ جاتا ہے، جہاں ’خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔‘


’’آپ کون ہیں؟‘‘ اِتنا گہرا فلسفیانہ سوال ہے ، اکثر اِس سے گریز کرتے کرتے، ہم زِندگی سے ہی پردہ کر جاتے ہیں۔ کائنات میں اپنے وجود کو منوانے کی خاطر اِس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے اپنے اندر اُترنے کا حوصلہ چاہیے پَر اپنی ذات کی تاریکی میں اُترنے سے قبل ہمارا چہرا اُتر چکا ہوتا ہے اور اِس سفر پر جانے سے پہلے ہی جان جاتی نظرآتی ہے۔ اپنے اندر نگاہ ڈالیے، خوف آپ کو کُودنے نہیں دے گا، وسوسے بہلا پھُسلا کر سفر کے آغاز سے قبل ہی واپس لے آئیں گے۔

ژونگ کی رائے میں، جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا ہے آپ وہ نہیں ہیں، آپ وہ ہیں جو آپ بننا چاہتے ہیں۔

جب دُوسروں نے اپنے وجود کا اثبات، ’’آپ کون ہیں؟‘‘ کا کٹھن سفر طے کر کے ہی پایا تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
(ظاہر ہے؛ ’آپ‘ سے مراد ’ہم‘ ہیں۔ بقول ایلِس واکر، ’’وہ ’ہم‘ ہی ہیں، جِن کا ہمیں انتظار ہے)

اور اگر رختِ سفر کل باندھنا ہے، تو پھِر آج کیوں نہیں؟

سٹیو میرابولی بھی یہی پیغام دیتا ہے؛

آج، بے شمار لوگ امید کی ایک نئی کِرن کے ساتھ بیدار ہوں
گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، اپنے اِرد گِرد بِکھری خًوب صُورتی کے نظارے کے لیے اپنی آنکھ کھولیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، گزشتہ کل کے منحوس سائے کو پیچھے چھوڑنے کا عہد کر کے لمحہ موجود کی عظیم طاقت کو اپنی دسترس میں لائیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، شکوک و شبہات اور احساسِ عدم تحفظ کا بوجھ، اپنی خود مختاری کے بھروسے اپنے مضبوط کندھوں کو سونپ دیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، اپنی خُود ساختہ حدود کو پھلانگ کر اپنے اندر کی زور آور طاقت میں اُتر جائیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، اپنی اولاد کے لیے رول ماڈل بن کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، اپنی خوشیوں پر خُود سے لگائی ہوئی پابندیوں اور زنجیروں سے آزاد ہو کر جینے کا فیصلہ کریں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، سادہ زِندگی کی خیرو برکت سے خُود کو آگاہ کریں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، گھمبیر اخلاقی مسائل کے فیصلہ کُن مرحلے سے گزر کر اپنے ذاتی مفاد کی بجائے حَق کے انتخاب کو ترجیح دیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، خُود کو قابلِ رحم بنانے کی عادت سے چھٹکارا پا کر زِندگی کی مشکلات سے نبردآزما ہونے والے امید کے راہی بن جائیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، اپنے حالات بدلنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج، بے شمار لوگ، بہتر ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، طالب عِلم، اُستاد، کارکن، مالک، بھائی اور بہن وغیرہ بننے کا عزمِ مصمم کریں گے، تو پھِر آپ کیوں نہیں؟
آج ، ایک نئے دِن کا آغازہے۔
بے شمار لوگ، آج کے دِن کو اپنے لیے مبارک بنائیں گے ۔
بے شمار لوگ، آج سے زِندہ دِلی کا مظاہرہ شروع کردیں گے۔
تو، پھِر آپ کیوں نہیں؟



مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی اور آپ کی راہ میں حائل ہے، اصل معمہ یہ ہے، آپ اپنے لیے خُود رکاوٹ بن بنے ہوئے ہیں۔ خُود کو ایسی سُلیمانی ٹوپی پہنا رکھی ہے کہ اپنی ہی نظروں سے خُود کو اوجھل کئے بیٹھے ہیں۔


ایک ننھے بچے نے
ایک تارے کی طرف دیکھا
اور رونا شُروع کر دیا
تو
تارا بول پڑا
’’ننھے بچے،
کیوں رو رہے ہو؟‘‘
اور بچے نے کہا
’’تُم اِس قدر دُور ہو
میرے لیے مُمکن ہی نہیں
کہ تُمہیں چھُو سکُوں۔‘‘
اور پھِر
تارے نے جواب دِیا
’’ننھے بچے،
اگر میں پہلے ہی سے نہ ہوتا
تمہارے دِل کے اندر
تو، تُمہارے لیے مُمکن ہی نہ ہوتا
کہ تُم مجھے دیکھ سکو۔‘‘

جون میگریلا


تو، آئیے، رو لیجیے، اگر اُفق کے اُس پار ستارا تو ہم نے دیکھ لیا مگر خُود کو نہیں دیکھ پائے۔ اپنوں کی دُوری کا غم ناقابلِ برداشت ہوا تو اُن کو منا لیا مگر اپنے آپ سے دُوری کا غم منانا بھُول گئے۔ اپنے دِل میں پُوری کائنات سمو لی پَر خُود کے لیے جگہ نہ بنا پائے۔ چلیں، ایک آنسو نہ سہی، ایک قہقہہ تو بنتا ہے نا، خُود سے دُوری پر۔ وہ قہقہہ، جو فلک شگاف چاہے نہ ہو لیکن اپنی ذات میں شگاف ڈال کر خُود کو واشگاف کردے تو بھی کافی ہے۔ دُوسروں سے مات کھانا، واقعی میں، بہت بڑا دُکھ ہے مگر خُود سے مات کھا کر خُود سے بھاگتے رہنا بھی تو ایک دائمی شِکست ہے۔
تو پھِر، اپنے قریب آئیے، خًُود کو چھُونے کی کوشش کیجیے اور زمانے بھر کو اپنے سحر میں لے لیجیے۔
شرم کِس بات کی؟ دستک دیجیے۔
جھجک کاہے کی؟ دروازہ کھولیے اور خُود کا اِستقبال کیجیے۔ اور تفکر کی ابتدا کیجیے۔

بلیز پاسکل کے خیال میں، ‘انسان کی ساری مشکلات دراصل اُس کی اپنی ہی نااہلی کی بنا پر سر اٹھاتی رہتی ہیں کہ وہ کبھی کسی کمرے میں تھوڑی دیر کے لیے بھی بالکل تنہا خاموشی سے اپنے ساتھ وقت نہیں گزارتا۔
بقول افلاطون، ‘غوروفکر کا عمل اپنی ذات سے ہمکلامی کا شرف ہے۔ اپنی ہی کائنات میں اپنے روبرو ہو کر ایک طویل مکالمے کا آغاز کیجئے۔
فرانز کافکا کہتا ہے، ” آپ کو اپنے کمرے سے باہر جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اپنی میز کے قریب بیٹھے رہیے اور سننے کی کوشش کریں چاہے سنیے بھی نہیں، بس انتظار کیجیے۔ انتظار بھی نہ کیجیے۔ خاموش اکیلے بیٹھے رہیے۔ دنیا اپنا ہر پردہ ہٹا کر خوشی سے خود کو آپ کے حضور پیش کر دے گی۔ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں، یہ دیوانہ وار آپ کے قدموں تلے ڈھے پڑے گی……‘‘

ڈاکٹر ڈیوِڈ شوارٹز کی تحقیق کے مطابق، ہسپتالوں میں اسّی فی صد بِستر ایسے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں،جنھوں نے اپنے مَرض کو اپنے دماغ پرسوارکر رکھا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گِز نہیں کہ وہ لوگ جِسمانی مَرض میں مبتلا نہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اُن کے مَرض کی اِبتدا ،جِسم کی بجائے، اُن کے دماغ میں ہوئی تھی۔
اِس لیے، دماغ سے اِس ’وہم‘ کو نکالیے کہ آپ ’وہم‘ ہیں۔
دُنیا کو قدموں میں ڈھیر کرنے سے پہلے، خُود کو اپنے قدموں سے اُٹھائیے۔ خُود سے شکست کھا کے خًُود کو فتح کیجیے۔
مزید تاخیر مت کیجیے،کیوں کہ؛
’’ آج، آپ کی بقیہ زِندگی کا پہلا دِن ہے۔‘‘
لہٰذا:

آپ جہاں کھڑے ہیں، وہیں سے شروعات کر دیں اور ماضی کی فِکر ہر گِز نہ کریں
اب دوبارہ اِبتدا کرنے میں، ماضی آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا
اگر آپ ماضی کو بہت دُور پیچھے چھوڑ آئے ہیں
تو پھِر قِصّہ خَتم، آپ اُس سے نِپٹ چُکے، آگے بڑھ چُکے
اب (زِندگی کی) کتاب کے اگلے باب کا آغاز ہے
اب، ایک نئی دوڑ ہے، جِس کی منصوبہ بندی آپ کر چُکے ہیں
گُزرے ہُوئے دِنوں کو حسرت سے دیکھنا چھوڑ دیں
آپ جہاں کھڑے ہیں، وہیں سے شرُوعات کر دیں

آپ کی گزشتہ ناکامیوں کی طرف دُنیا کا دھیان بالکل نہیں رہے گا
اگر آپ ازسرِ نو آغاز کرنے کی ہمت کر کے فتح و کامرانی حاصل کریں
تو آنے والا وقت آپ کا ہے، اور وقت کا دھارا (مسلسل) بہتا چلا جا رہا ہے
اور ابھی بہت سا کام، محنت اور مشقت باقی ہے
مدفُون غموں اور ’مُردہ مایوسیوں‘ کو (اب) فراموش کر دیں
وہ سامنے ایک نئی آزمائش آپ کا راہ دیکھ رہی ہے
مستقبل ،اُسی کا ہے، جو ہِمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتا ہے
اِس لیے، آپ جہاں کھڑے ہیں، وہیں سے شرُوعات کر دیں۔

(برٹن برالی)

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top