تو ہنس رہا ہے مجھ پہ میرا حال دیکھ کر
کمال کیا ہے؟
آپ کے پاس وسائل، تجربہ، شہرت کچھ بھی نہ ہو اور سادگی ایسی کہ آپ کی زباں سے کوئی عزم کی بات سنتے ہی لوگ قہقہے لگانا شروع کر دیں۔
آپ ان کے قہقہوں کے ساتھ ایک ایسا ہی بلند اور زندہ دِل قہقہہ لگا کر کہیں؛
تو ہنس رہا ہے مجھ پہ میرا حال دیکھ کر
اور پھر بھی میں شریک تیرے قہقہوں میں ہوں
(احمد فراز)
اور پھرآپ اپنا حوصلہ پَست کرنے کی بجائے اپنے عَمل سے فتح کا ایسا نقارہ بجائیں کہ سب کے قہقہے فتح کی اس گونج میں گُم ہو جائیں۔
کمال کیا ہے؟
آپ اپنی لگن سے ہر فرسودہ روایت پاوں میں روندتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں۔
آسٹریلیا کے بوڑھے کسان کلف ینگ نے ایسے ہی جنون سے دُنیا کو چونکا کے رکھ دیا تھا۔
آلووں کے کاشت کار، اِکسٹھ سالہ کلِف یَنگ نے 1983ء میں پہلی بار منعقد کی جانے والی 875 کلومیٹر طویل ’ سِڈنی -میلبورن الٹرامیراتھن ریس ‘ جیتنے کا خواب دیکھا۔
ایک ایسی ’دوڑ ‘ جِسے بعد ازاں دُنیا کی عظیم ترین دوڑوں میں شمار کِیا گیا۔
روایتی طریقے سے تیز بھاگنے کی بجائے، وہ دوڑنے اور چلنے کی مِلی جُلی ’گھسِٹتی ہوئی چال ‘ سے آگے بڑھتا گیا۔
اس پر قہقہے بلند ہوئے، طنز ہوتا رہا اور اسے پاگل خیال کِیا گیا۔ مگر اُس نے نہ صِرف اس ریس میں فتح حاصِل کی بلکہ دُنیا کے 149 بہترین کھلاڑیوں کو 9 گھنٹے کی تاریخی مات دی۔
کلف کی کامیابی تمام دقیانوسی رکاوٹوں اور سوچوں کے منہ پر طمانچہ تھی جو مخصوص عُمر، ظاہری طاقت اور روایتی طریقہ کار کو ہی کامیابی کا معیار سمجھتی ہیں۔
سچی لگن، خود پر یقین اور مستقل مزاجی ہو تو حقارت آمیز قہقہے بھی آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹