✍️ تو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


تو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا


تو دوست کسی کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

ستمگر منادی ہے۔


چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نے
خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

یعنی خورشیدِ ناقص ہی رہ گیا، جس طرح ماہِ نُخشب ابنِ مقنع سے ناقص رہ گیا تھا۔


توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

یعنی اگر قطرہِ اشک بھی گوہر ہو گیا ہوتا تو یہ عزت کہاں حاصل ہوتی کہ آنکھوں میں اُس کی جگہ ہے، قطرہِ گوہر کی ہمت قطرہِ اشک سے کم نہ تھی، اس وجہ سے وہ کانوں ہی تک پہنچتا ہے، آنکھوں میں جگہ نہیں پا سکتا۔


جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
میں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

قیامت کو قیامت سے تشبیہ دی ہے کہتے ہیں کہ قدِ یار کو دیکھ کر وجودِ فتنہِ محشر کا مجھے یقین آیا۔


میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوں
یعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا

ہر اُس کی آزردگی سے جو تجدیدِ شوق ہوئی، اُسے تکرارِ سبق سے تعبیر کیا ہے۔

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

​محاورہ میں گناہ گار کو تر دامن کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ میرے دامن نے سارا دریائے معاصی جذب کر لیا کہ وہ خشک رہ گیا اور پھر بھی گوشہِ دامن تک اچھی طرح تر نہ ہوا یعنی جتنے معاصی تھے سب میں نے کئے اُس پر بھی میرا جی نہیں بھرا۔

جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیل
آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا

اس شعر میں اپنا مقابلہ سمندر سے اور داغ کا آتش کدہ سے کیا ہے اور داغ کو ترجیح دی ہے کہ اُس سے تفصیل جاری ہے یعنی اُس کے سبب سے جو آہ و نالہ پیہم نکلتا ہے وہی تفصیل ہے تو گویا داغِ دل میری جاگیر ہے سمندر کو آتش کدہ سے یہ فائدہ نہیں حاصل۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top