تقدیر کو کون بدل سکتا ہے؟
ایک جاپانی جنرل نے بہت اہم لڑائی میں دشمن پر حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ اگرچہ اس کی فوج تعداد میں کہیں کم تھی، اُسے اعتماد تھا انہیں فتح ہو جائے گی۔ مگر پُورے لشکر میں بے یقینی کی کیفیت تھی۔
راستے میں وہ ایک عبادت گاہ میں رُک گئے۔ عبادت کے بعد، جنرل نے کچھ فوجیوں کے سامنے سِکّہ نکالا اور بولا۔
” میں یہ سکہ ہَوا میں اچھالوں گا، اگر یہ سیدھے رُخ پر گرا تو جیت یقینا ہماری ہو گی اور اگر الٹے رُخ پر گِرا تو پھر ہار ہمارا مقدر ہو گی۔ اب تقدیر ہی ہمارا فیصلہ کرے گی۔”
اُس نے سِکہ ہَوا میں اچھالا تو سب بڑے انہماک سے دیکھنے لگے۔ سِکہ سیدھے رُخ پر آ گِرا۔ سپاہی خوشی سے سرشار ہو گئے۔ اُن میں اعتماد کی وہ لہر آئی کہ دشمن پر ٹُوٹ پڑے اور بالآخر جیت اُن کا مقدر ہوئی۔
فتح کے بعد، ایک لیفٹیننٹ نے جنرل کو یاد دلایا
”تقدیر کو کوئی نہیں بدل سکتا۔”
” تم نے ٹھیک کہا۔”
جنرل نے جواب میں لیفٹیننٹ کو سکہ دکھایا جس کے دونوں طرف سیدھے رُخ (ہیڈز) کی چھپائی تھی۔
🌹 Sharing is Caring 🌹