تالیوں میں گونجتی ہوئی ناکامی
’بہادری خوف کی عدم موجودگی کا نام نہیں ، بلکہ یہ اس فیصلے کا نام ہے کہ کوئی چیز خوف سے بھی زیادہ اہم ہے۔‘
(ایمبروز ریڈمون)
ڈاکٹر جان ویسٹ کہتا ہے؛ ’ جب آپ انتہائی بلندیوں پر ہوتے ہیں، آپ کا جسم اپنی بقا کی جنگ خود لڑ رہا ہوتا ہے۔ وہاں ہر سانس ایک کشمکش ہوتی ہے۔‘ ایڈمنڈ ہیلری وہ پہلا انسان تھا جس نے ماونٹ ایورسٹ سَر کیا تھا۔ 29 مئی 1953ء کو انتیس ہزار فٹ اونچا دنیا کا بلند ترین اور خطرناک پہاڑ اس کے قدموں کی ٹھوکر تلے تھا۔ اس کی فتح انسانی عزم و ہمت کی معراج تھی۔
اس عظیم کوہ پیما کا خیال تھا، ہم پہاڑ کو فتح نہیں کرتے، بلکہ خود کو فتح کرتے ہیں۔ اس نے اپنے خوف کو دبایا نہیں بلکہ اپنے مقصد کے تابع کر دیا۔ اس نے ایک ایسے مرحلے پر ہمت کا مظاہرے کیا جہاں انسانی اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ اپنی کامیاب مہم جوئی پر اسے ‘ سر’ کا خطاب بھی دیا گیا ۔ اپنی اسی کامیابی کی بدولت وہ امریکن ایکسپریس کارڈ کمرشل میں بھی جلوہ گر ہُوا۔ تاہم جب تک ہم اس کی لکھی ہوئی کتاب نہ پڑھ لیں، ہم ٹھیک سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس عظیم کارنامے کو کامیابی سے سرانجام دینے کے لیے ہیلری کو اپنی ہمت اور برداشت کو کِس قدر آزمانا پڑا۔
1952ء میں، اس نے ماونٹ ایورسٹ پر چڑھنے کی پہلی کوشش کی مگر ناکام ہو گیا۔ چند ہفتوں بعد، انگلینڈ میں کسی ادارے نے اپنے ممبرز سے خطاب کرنے کے لیے اسے مدعو کیا۔
تالیوں کی بھرپور گونج میں ہیلری کا سٹیج پر استقبال کیا گیا۔ سامعین کو احساس تھا کہ یہ ایک عظیم ترین کوشش تھی مگر ہیلری خود کو ایک ناکام شخص کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا۔
وہ مائیکرو فون سے پیچھے ہٹا اور باوقار انداز سے چلتے ہوئے سٹیج کے کنارے تک آ گیا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے مُکا بنایا اور ماونٹ ایورسٹ کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلند آواز میں بولا:
”ماونٹ ایورسٹ! میری اس پہلی کوشش میں تُم نے مجھے شکست سے دوچار کیا ہے لیکن اگلی بار تمہاری شکست یقینی ہے کیوں کہ تُم نے جِتنا بڑھنا تھا ، بڑھ چکے…….مگر میں (اپنے حوصلے اور عزم کی صورت) اب بھی بلند ہوتا چلا جا رہا ہوں۔”
۔۔۔ اور پھر اپنی ثابت قدمی کے بل بوتے پر اس نے ماونٹ ایورسٹ کو فتح کر کے انسان کی عظمت کا ناقابل شکست عملی ثبوت پیش کر دیا۔
1975 میں اس کی اہلیہ اور بیٹی کی ایک ہوائی حادثے میں موت نے اس کو زندگی کی سب سے بڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ ہیلری کئی برس تک اس صدمے سے باہر نہ آ سکا۔ یہ ایسا خلا تھا، جسے بھرنا ناممکن تھا۔ غم کے اس ماونٹ ایورسٹ پر فتح پانے کے لیے اس نے اپنی زیادہ تر توانائی خدمتِ خلق میں لگا دی۔ اس کا خیال تھا، سخت ترین صدمے میں بھی آپ کو ہمت کر کے دوبارہ اٹھنا پڑتا ہے اور زندگی کو آگے کی طرف دھکیلنا ہوتا ہے۔
وہ کہتا ہے؛ ’ میری زندگی کی سب سے مشکل چڑھائی ایورسٹ نہیں تھی، بلکہ اپنی بیوی اور بیٹی کو کھونے کے بعد زندگی کی ازسرِ نو تعمیر تھی۔‘
🌹 Sharing is Caring 🌹