غزل

بال جبریل

✍️ بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مے خانے ✍️

( علامہ محمد اقبال )


بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مے خانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صہبا

نہ ایراں میں رہے باقی نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قیصر و کسریٰ

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا

حضور حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی
یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا

ندا آئی کہ آشوب قیامت سے یہ کیا کم ہے
‘گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا’

لبالب شیشۂ تہذیب حاضر ہے مے لا سے
مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ الا

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top