بلندی اور پستی کے راستے
ایک با اثر درباری شخص، سقراط سے مخاطب ہوا،
’’ تمہاری نسبت، میں زیادہ اثر و رسوخ کا حامل ہوں۔ میں چاہوں تو تمہارے سبھی پیروکاروں کو تم سے دور کر دوں مگر تم مجھ سے میرا کوئی بھی پیروکار نہیں چھین سکتے۔‘‘
سقراط نے مسکرا کر جواب دیا،
’’شاید، تمہاری بات ٹھیک ہی ہو کیونکہ تم ان سب کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے لا رہے ہوتے ہو جب کہ میں انہیں پہاڑ کی عمودی بلندی پر واقع حسنِ اخلاق کے معبد پر لے جانے کی جدوجہد کر رہا ہوتا ہوں، اور یہ ایک ایسا رستہ ہے جس پر چڑھنے کی ہمت کوئی جواں مرد ہی کر سکتا ہے۔‘‘
سقراط کا راستہ ہمت، استقامت اور اخلاقی جرات جیسے اعلی جذبات کا طالب ہے۔ اس دشوار گزار عمودی راستے پر صرف وہی جواں مرد چڑھ سکتا ہے، جو گرنے سے نہیں بلکہ نیچے رہ جانے سے ڈرتا ہے۔
سقراط کہتا ہے، اخلاق کے معاملے میں کسی انسان کو غیر سنجیدہ ہونے کا حق حاصل نہیں۔ اس کی یہی سنجیدگی اسے اپنی تاریکی کو پہچاننے اور خود آگہی کی منزل طے کرنے میں مدد دیتی ہے۔
درباری شخص طاقت، جبر اور آسان راستے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو مفاد پرستی اورجھوٹی انا کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ رستہ آسان ہے اور ہجوم اکٹھا کر لیتا ہے جب کہ سچائی کا رستہ خلوص اور قربانی مانگتا ہے۔
’’ہم جتنا بلند اڑتے ہیں، ان لوگوں کو اتنے ہی چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو اڑنا نہیں جانتے۔‘‘ (نطشے)
🌹 Sharing is Caring 🌹