✍️ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا

عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا
لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا


بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

​یعنی کمالِ انسانیت کے مرتبہ پر پہنچنا سہل نہیں ہے۔


گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

​لپک رہا ہے یعنی ظاہر ہو رہا ہے، اور ٹپکنے کی لفظ گہر کے لئے اور گریہ کے ساتھ بھی بہت ہی مناسبت رکھتی ہے:


وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

​ہردم یعنی ہر مرتبہ سانس لینے میں اُس مبدائے حیات و وجود کی طرف دوڑتا ہوں اور اپنی نارسائی سے حیران ہو کر رہ جاتا ہوں۔


جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

​یعنی اُس کا جلوہ حسن یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے دیکھو تو آئینہ چاہتا ہے کہ آنکھ بن جائے اور جوہر یہ چاہتا ہے کہ پلکیں بن جائیں اور آئینہ سے آنکھ کی تشبیہ مضمون مشہور ہے اور یہاں آئینہ سے آئینہ فولادی مراد ہے کہ جوہر اسی میں ہوتے ہیں۔


عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

​یعنی قتل گاہ میں عشاق کو ایسی مسرت حاصل ہے کہ شمشیر کو عریاں دیکھ کر وہ جانتے ہیں کہ ہلالِ عید کا نظارہ دکھائی دیا لفظ ہلال تنگی وزن سے نہ آ سکا اور شعر کا مطلب تاتمام رہ گیا۔


لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا

​یعنی ہم داغ لیکے چلے اب تجھے باغ باغ ہونا مبارک ہو اور یہی محاورہ ہے باغ باغ ہونے کی جگہ پرگلستاں ہونا خالص مصنف کا تصرف ہے۔


عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا
لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا

​دونوں مصرعوں میں فعل ‘ہے’ محذوف ہے۔


کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

​یعنی لہو دیکھتے ہی رحم آگیا کہ یہ میں نے کیا کیا، نہ غصہ آتے دیر لگی نہ پشیمان ہوتے دیر لگی اور ممکن ہے کہ زود پشیماں طعن و طنز سے کہا ہو یعنی جب کام اختیار سے باہر ہو چکا جب رحم آیا کیا جلد پشیمان ہوا۔


حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

​یعنی اگر ہجر ہے تو وہ آپ چاک کرے گا اور اگر وصل ہے تو شوخیِ معشوق کے ہاتھوں پرزے اڑ جائیں گے۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top