✍️ بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا

شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا

گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا

کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا


بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا

اس شعر میں یہ اشارہ ہے کہ بزمِ شاہی میں جو گنجینہِ گوہر ہے تو فقط اسی سبب سے ہے کہ میرے اشعار کا دفتر وہاں کھلا ہے اور یہ دعا ہے کہ الہی در کو کھلا رکھ اس کے معنی یہ ہیں کہ آباد رکھ اور اس کا فیض جاری رکھ۔


شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا

فقط تاروں کے کھلنے کا سماں دکھایا ہے یہ شعر غزل کا نہیں بلکہ قصیدے کی تشبیب کا ہے غالباً اور شعر اس کے ساتھ ہوں گے جو انتخاب کے وقت نکال ڈالے گئے۔


گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا

یعنی دنیا کی دوستی ایسی ہے کہ ظاہر و باطن یکساں نہیں ہاتھ میں نشتر کھلا ہوا ہونا اظہارِ غم خواری کے لئے ہے یعنی فصد و علاج کا قصد ظاہر کرتا ہے اور آستین میں دشنہ چھپائے ہوئے ہیں یعنی چھرا مارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔


گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

اس شعر میں “کھلنا” بے تکلف ہو کر باتیں کرنے کے معنی پر ہے۔


ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

​”خیالِ حسن” یعنی تصورِ چہرہ معشوق سے قبر میں باغِ بہشت دکھائی دے رہا ہے اس لئے کہ اُس کے چہرہ میں باغ کی سی رنگینی ہے تو گویا کہ تصورِ حسن اور حسنِ اعمال کا ایک ہی ثمرہ ہے۔


منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

اس شعر میں “کھلنا” زیب دینے کے معنی پر ہے دیکھو معنی ردیف میں جدت کرنے سے شعر میں کیا حسن ہو جاتا ہے۔


در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

فقط معشوق کی ایک شوخی کا بیان منظور ہے اور یہ بہترین مضامینِ غزل ہوا کرتا ہے۔


کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا

پہلے مصرع میں سوال و جواب ہے یعنی تاریکیِ شبِ غم کا سبب یہ ہے کہ بلندیِ عرش پر سے بلائیں اتر رہی ہیں اور تاروں نے اُن کے اُترنے کا تماشہ دیکھنے کے لئے اس طرف سے اُس طرف آنکھیں پھیر لی ہیں یعنی اس کثرت سے اُتر رہی ہیں جیسے میلہ قابلِ تماشا ہوتا ہے۔


کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

دستور ہے کہ خبرِ مرگ جس خط میں لکھتے ہیں اُسے کھلا ہی روانہ کرتے ہیں اور غربت کے معنی مسافرت۔


اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا

یعنی معراج کی شب میں۔


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top