اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے؟


آپ نے یقینا یہ قصہ سنا ہو گا؛
ایک اداس شخص نے اپنے سائیکالوجسٹ سے کہا، وہ بے حد غمزدہ اور زندگی سے انتہائی مایوس ہے۔ اکثر خودکشی کے خیالات اسے گھیرے رکھتے ہیں۔
سائیکالوجسٹ نے اسے مشورہ دیا، وہ نزدیکی سرکس میں اس مشہور جوکر کی پرفارمنس دیکھنے جائے ، جسے دیکھ کر سبھی دکھی لوگ اپنے غموں کو قہقہوں میں اڑا دیتے ہیں اور زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ وہ ہر وقت لوگوں کو ہنساتا رہتا ہے۔
اس شخص نے مزید اداسی بھرے لہجے میں کہا، ’ وہ جوکر، میں خود ہوں۔‘



لوگوں کو ہنسانا ایک انتہائی مشکل اور پیچیدہ آرٹ ہے۔ پسِ مزاح اپنے دکھوں کو چھپانا کوئی آسان کام نہیں۔
بقول انور مسعود، کسی قہقہے کو نچوڑیں تو اس میں دو بوند آنسو نکلتے ہیں۔
ایسے لوگوں کی ظاہری مسکراہٹ ان کے اندرونی حال کا مظہر نہیں ہوتی۔
وہ کسی تھیٹر کا کوئی جوکر ہو، یا ہمارے ارد گرد ہر وقت دوسروں کو ہنسانے والا کوئی زندہ دِل شخص؛ ہمارا فرض بنتا ہے، اس کی ہنسی میں اپنی ہنسی ملاتے ہوئے، کبھی کبھار یہ بات بھی اس سے پوچھ لیا کریں،

اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے
ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں

( شاعر: تیمور حسن تیمور )

ممکن ہے، وہ اپنے چہرے پر چڑھایا ہنسی کا ماسک اتار کر کچھ دیر اپنی آنکھوں کے اندر آنسووں میں غرقاب وہ چہرہ بھی دکھا سکے، جو قہقہوں اور تالیوں میں سب کے سامنے سمندر برد ہو رہا ہے مگر کوئی بھی اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہا۔



سانتا کلاز کا یادگار کردار ادا کرنے والا اداکار ایڈمنڈ گوین جب قریب مرگ تھا، اس کا دوست جارج سیتون اس کی عیادت کے لیے آیا اور گوین کے بستر کے پاس کرسی رکھ کر خاموشی سے بیٹھ گیا۔
کچھ دیر بعد گوین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے پرانے دوست کو پہچان کر دھیرے سے بولا،
’ جارج، مجھے لگتا ہے، میں مرنے والا ہوں۔‘

سیتون نے افسردگی سے کہا،
’ ہاں، مجھے معلوم ہے۔‘

گوین نے پھر سرگوشی کی،
’ مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔ یہ احساس بہت ڈراونا اور نفرت انگیز ہے۔‘

’ ہاں ، میرے دوست۔ مرنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔‘
سیتون کو تسلی کا کوئی مناسب لفظ ہی نہیں مل رہا تھا۔

گوین نے لمحہ بھر کچھ سوچا اور بولا،
’ ہاں، لیکن اتنا مشکل نہیں، جتنا کہ کامیڈی کرنا‘۔

یہ گوین کے آخری الفاظ تھے۔



ہنسانا اس لیے بھی مشکل ہے، کہ ذرا سی بے احتیاطی سے مزاح ایک لمحے میں مذاق میں ڈھل جاتا ہے اور اس حساس توازن کو قائم رکھنا ہی ہنسانے والے کے لیے اصل چیلنج ہے۔ موت ایک آخری اور حتمی حقیقت ہے جس میں ہمیں کچھ نہیں کرنا ہوتا مگر کامیڈی زندہ رہنے کا ایساعمل ہے جس میں ہمیں ہر لمحہ کچھ نیا تخلیق کرنا پڑتا ہے۔



مشہور جوکر وین ڈائیک نے ایک کامیڈی سٹار اسٹین لارل کے لیے ایک کارڈ بھیجا، جس پر اس نے اپنی پسندیدہ نظم لکھ رکھی تھی۔
اسٹین لارل کا انتقال چوہتر برس کی عمر میں ہوا۔ اس نے اپنے دوستوں کو سختی سے ہدایت کی تھی؛

’ اگر میری تدفین کے وقت کسی نے اداس چہرے کے ساتھ شرکت کی تو میں اس سے دوبارہ کبھی بات نہیں کروں گا۔‘

وین ڈائیک نے اپنی وہی پسندیدہ نظم، اسٹین لارل کی آخری رسومات میں پڑھی تا کہ اپنے ذاتی ہیرو کو خراج عقیدت پیش کر سکے۔

خدا سب مسخروں کو سلامت رکھے
جو دنیا کے سٹیج پرہنسی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں
جو اپنے برجستہ چٹکلوں سے چھتوں تک گونج پیدا کرتے ہیں
جو کائنات کو خوشی کے رقص سے گھماتے ہیں
اور ہردن کو کسی نہ کسی صورت مزید خوبصورت بناتے ہیں

خدا سب مسخروں کو سلامت رکھے
کیسی بے رنگ ہوتی یہ دنیا
اگر ان کا بے ساختہ لمس، ان کی شوخی
بلند قہقہے اور خوشی کی دل کش گونج نہ ہوتی
انہی سے تو یہ زمین جائے امن و سکون بنتی ہے

خدا سب مسخروں کو سلامت رکھے
انہیں صحت مند لمبی عمر سے نوازے
ان کا رستہ روشن کر دے، یہ ایک الگ ہی قبیلہ ہیں
یہ کیمیا گر ہیں، جو اپنے دل کے کرب کو بدل دیتے ہیں
ایک پُرکشش ہنسی میں، تا کہ ہر دِل کو خوشی سے بھر سکیں
خدا سب مسخروں کو سلامت رکھے


ہنسانے والے بھی کیسے عجیب لوگ ہیں، جو مرتے وقت بھی اپنی حس مزاح کو مرنے نہیں دیتے۔ موت کے کرب کو دکھ کے بجائے ہنسی کے ساتھ قبول کرنا کسی جوکر کا ہی کام ہو سکتا ہے۔
وہ ایسے حساس لوگ ہیں، جو مرتے وقت بھی اپنے پیاروں کے دلوں پر غم کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ ان کے نزدیک مرنا بھی ایک آرٹ ہے، جسے وہ غیرمعمولی انداز میں پرفارم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، کیوں کہ ہر فنکار اپنی آخری پرفارمنس کو ہمیشہ کے لیے یاد گار بنانا چاہتا ہے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top