ایک نعمت بھی یہی ایک قیامت بھی یہی

آگہی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ نئی راہوں، اور نئی منزلوں کی طرف انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ اس کے اندر تحقیقی اور تنقیدی سوچ بیدار کرتی ہے اور وہ اپنے گرد چیزوں کو زیادہ گہرائی سے جاننے لگتا ہے۔ وہ غور و فکر کر کے اپنی ذات کی کئی حقیقتوں سے آشنا ہو جاتا ہے۔ کائنات کے راز اس پر کھُلنے لگتے ہیں۔ نئے نئے معانی اس پر آشکار ہوتے ہیں۔

آگہی قیامت بھی ہے۔ سچائی پر ثابت قدم رہنے کے لیے مستقل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ پانی کے بہاو کی سمت بہنا آسان ہے مگر روحانی بیداری کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے موجوں کی روانی کے مخالف تیرنا پڑتا ہے۔ انسان تنہا ہو جاتا ہے۔ دوسرے اس کو پاگل سمجھتے ہیں اور اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔

یہاں سے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ انسان کو منفرد، تخلیقی اور حقیقت پر مبنی اندازِ فکر پر قائم رہنے کے لیے لوگوں کے مسلسل طنز کے نشتر سہنے پڑتے ہیں۔ اگر وہ یہ بھاری قیمت ادا کر دے، تو تاریخ میں ایک لازوال کردار بن کے زندہ رہتا ہے۔
اگر وہ یہ قیمت نہ دے پائے تو اس کے اندر سماج کی گھسی پٹی سوچ سے ہم آہنگی کی خواہش جنم لینے لگتی ہے۔ وہ اس عذاب سے بچنے کے لیے صراط مستقیم پر چلنے کی بجائے اندھی تقلید پر سمجھوتہ کر لیتا ہے۔ تا کہ اس کی زندگی میں آسودگی رہے۔ اور یوں وہ بھیڑ چال میں شامل ہو کر باقی لوگوں کی طرح موت آنے پر مر جاتا ہے۔

ایک نعمت بھی یہی ایک قیامت بھی یہی
روح کا جاگنا اور آنکھ کا بِینا ہونا

(احمدندیم قاسمی)

حکایت ہے؛
حضرت خضر نے لوگوں کو تنبیہ کی کہ ایک مقررہ دن پر دنیا سے سارا پانی غائب ہو جائے گا، سوائے اس کے جو خود سے ذخیرہ کیا گیا ہو۔ اس کے بعد نیا پانی ظاہر ہو گا لیکن اس پانی کا استعمال لوگوں کو پاگل بنا دے گا۔

ایک آدمی ان کی نصیحت کو سمجھ گیا۔ اس نے بہت سا پانی ایک محفوظ جگہ پر جمع کر لیا۔ اب اسے انتظار تھا، پانی کی اصل صورت کب بدلے گی؟
مقررہ دن آیا۔ نہریں اور کنوئیں خشک ہو گئے۔ وہ آدمی اپنے ذخیرے سے پانی پیتا رہا۔ پھر جب اسے معلوم ہوا کہ نیا پانی زمین پر ظاہر ہو گیا ہے، وہ اپنی پناہ گاہ سے نکل کر دوسرے انسانوں کے درمیان آ گیا۔

لوگوں کے سوچنے اور بات کرنے کا انداز بالکل بدل گیا تھا۔ کسی کو یاد نہیں تھا، ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ جب اس آدمی نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی، لوگوں نے اسے پاگل خیال کیا۔ کبھی نفرت اور کبھی ہمدردی سے اسے دیکھتے رہے مگر وہ اس آدمی کو سمجھ نہ پائے۔
وہ آدمی اپنے ذخیرے سے پانی پیتا رہا۔

آخرکار، وہ تنہائی اور منفرد سوچ کی اذیت برداشت نہ کر پایا۔ اس نے تنگ آ کر نیا پانی پی لیا۔ اب وہ دوسروں کی طرح ہو گیا۔
پھر وہ اپنے ذخیرے کو بھی بھول گیا۔ لوگوں نے اسے دیکھا اور کہنے لگے۔
یہ وہی پاگل ہے جو کسی معجزے سے دوبارہ ٹھیک ہو گیا ہے۔

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top