✍️ ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب ✍️

( مرزا اسد اللہ غالب )


ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
خون جگر ودیعت مژگان یار تھا

اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا

موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا

کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا


ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
خون جگر ودیعت مژگان یار تھا

​حساب دینا پڑا یعنی آنکھوں سے خون بہانا پڑا گویا خونِ جگر اُس کی امانت تھا۔


اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا

​قاعدہ ہے کہ آئینہ میں ایک ہی عکس دکھائی دیتا ہے لیکن جب اسے توڑ ڈالو تو ہر ٹکڑے میں وہی پورا عکس معلوم ہونے لگتا ہے اور یہاں ہر عکس کو دیکھ کر ایک ایک آرزو کا خون ہوتا ہے۔ غرض کہ جس آئینہ میں معشوق کے عکسِ تمثال کا جلوہ تھا اُس کے ٹوٹنے سے ایک شہرِ آرزو کا خون ہو گیا یہ کہا ہوا مضمون ہے:


گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا

​ہوائے کے معنی آرزو اور رہ گزار سے معشوق مراد ہے۔


موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا

​یعنی جس طرح تلوار میں جوہر آبدار ہوتے ہیں اسی طرح موجِ سراب کے ذرہ تھے حاصل یہ کہ سرزمینِ عشق پر تلوار برستی ہے۔


کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا

​یعنی کم ہوئے پر بھی بہت زیادہ نکلا۔



کس کا جنون دید تمنا شکار تھا
آئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا

کس کا خیال آئنۂ انتظار تھا
ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا

جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھ
پیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا

دیکھی وفائے فرصت رنج و نشاط دہر
خمیازہ یک درازی عمر خمار تھا

صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا


🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top