اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں

محبت ایک بے لوث احساس اور انمول جذبہ ہے۔ اس کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا، پھر بھی اس حسین ترین احساس میں مبتلا لوگ خود اس کی قیمت بن جاتے ہیں اورخود کو انمول کر دیتے ہیں۔ وہ اسے تخلیق در تخلیق کرنے میں مگن رہتے ہیں اور اگر کبھی ایسا وقت آ جائے کہ اپنی ہی تخلیق خریدنا پڑ جائے تو اسے خریدنے کے لیے وہ خود کو بیچ دیتے ہیں۔ وہ اس مقدس دائرے کے اسیر ہو کر اسے وسیع تر کرتے ہوئے زمانے کے دائرے کی قید سے ماورا ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے آسکر وائلڈ محبت کے بھید کو موت کے بھید سے زیادہ گہرا قرار دیتا ہے۔

فیض کے نزدیک، محبت دراصل تکمیل ذات ہے۔

اپنی تکمیل کر رہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں

ایک لڑکے نے دِن رات کی محنت سے ایک چھوٹی سی کشتی بنائی اور فخر سے کہنے لگا،
’’تُم ساری کی ساری میری ہو۔ میں نے تمہارا ہر حصہ خُود تخلیق کیا ہے۔‘‘
وہ ایک جھِیل کنارے پہنچا۔ اُسے اِسی دِن کا اِنتظارتھا۔ اُس کے ہاتھوں سے بنی وہ خوبصورت کشتی جھیل کے نِیلے شفاف پانی میں تیرنے لگی۔ اچانک، تیز ہوا آئی اور کشتی سے بندھی وہ ڈوری ٹوٹ گئی جِس کا دُوسرا سرا بچے کے ہاتھ میں تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے، کشتی بچے کی رسائی سے بہت دُور نِکل گئی۔ حتیٰ کہ جھیل کے درمیان ہی کہیں غائب ہو گئی۔ وہ دِل شکستہ لڑکا اپنی بادبانی کشتی کے بِنا ہی بوجھل قدموں سے گھر لوٹا۔

کئی ہفتوں بعد، وہ لڑکا مین مارکیٹ میں گھوم رہا تھا۔ جب وہ کھِلونوں کی دُکان سے گُزرا، تو اُس کی نظر کِسی خاص چِیز پر پڑی۔
’’ارے، یہ رہی۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ‘‘
کھِڑکی میں اسے اپنی کشتی دِکھائی دی تھی۔ وہ دکان کے اندر لپکا اور دکان کے مالک کو کشتی کا سارا قصہ سنایا۔ اس کے لہجے میں بَلا کی اُداسی تھی،
’’یہ سچ میں میری ہے۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے بنایا تھا۔‘‘
دکان دار سَر ہِلاتے ہوئے بولا،
’’سوری!، اب یہ کشتی میری ہے۔ اگر تُم اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘‘
اگرچہ لڑکا افسردہ تھا مگر وہ اس عزم کے ساتھ دکان سے باہر نکلا کہ اپنی کشتی واپس ضرور لے گا۔ اُس نے پھر سے محنت شروع کر دی۔ اپنے دوستوں، ہمسایوں اور فیملی کا ہر وہ کام کرنے لگا جِس سے اسے کچھ نہ کچھ معاوضہ مِل سکتا تھا۔
بالآخر، وہ مبارک دِن آ گیا۔ اُس کے اندر خوشی کا رقص جاری تھا۔ وہ کھلونوں کی دُکان کے اندر داخِل ہُوا اور اپنی محنت کی جمع پونجی کاونٹر پر رکھتے ہوئے بولا،
’’میں اپنی کشتی خریدنا چاہتا ہوں۔‘‘
دکاندار نے بڑی احتیاط سے میز پر بکھرے کچھ ڈالرز اور ریزگاری گنی۔ یہ رقم کافی تھی۔ اُس نے پیار سے وِنڈو شَو کیس سے وہ کشتی نکالی اور لڑکے کے پھیلے ہوئی ہاتھوں پر رکھ دی۔

سہ پہر کی خوشگوار دھوپ میں فخر سے قدم اٹھاتے اور کشتی کو بار بار اپنے گلے سے لگاتے ہوئے وہ لڑکا بولا،
’’تُم میری ہو۔ ایک بار پھِر میری۔ پہلے میں نے تمہیں تخلیق کیا اور پھر تمہیں خرِید لِیا۔‘‘

🌹 Sharing is Caring 🌹

Scroll to Top