✍️ اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں ✍️
( مرزا اسد اللہ غالب )
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجۂ مژگان آہو پشت خار اپنا
اسد اور آہو کا تقابل تو ظاہر ہے، جنونِ جولاں ہونے سے یہ اشارہ کیا ہے کہ آہو بھی میرے پیچھے رہ جاتا ہے اور پشتِ خار سے پیچھے ہی کھجاتے ہیں۔ گدا کی لفظ پشتِ خار کی مناسبت کے لئے ہے، بے سروپا کہنے سے یہ مقصود ہے کہ پشتِ خار تک میرے پاس نہیں ہے، اگر ہے تو مژگانِ آہو ہے پنجہ میں اور مژگان میں اور پشتِ خار میں، وجہ شبہ جو ہے وہ ظاہر ہے یعنی شکل تینوں کی ایک ہی سی ہے، مژگان کو پہلے پنجہ سے تشبیہ دی، پھر پنجہ کو پشتِ خار سے تشبیہ دی۔
نہ بھولا اضطراب دم شماری انتظار اپنا
کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
چراغ گل سے ڈھونڈھے ہے چمن میں شمع خار اپنا
اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
بدام جوہر آئینہ ہو جاوے شکار اپنا
مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی
ہوا ہے نقشبند آئنہ سنگ مزار اپنا
دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
اگر آسودگی ہے مدعائے رنج بیتابی
نیاز گردش پیمانہ مے روزگار اپنا
🌹 Sharing is Caring 🌹