ادھورے پن کے دکھ
ایک دفعہ کا ذکر ہے؛ ایک پَستہ قد آدمی تھا، جس کا قد تقریبا تین فٹ تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی، اس کا قد لمبا ہو۔
اچانک اسے خیال آیا، اس مقصد کے لیے اپنے جانور دوستوں سے مشورہ کرنا چاہئے۔
گھوڑے نے مشورہ دیا،
’ بہت سی جئی اور مکئی کھایا کرو۔ روزانہ تیز دوڑنا معمول بناو۔ دیکھنا، تمہارا قد بہت جلد بڑھ جائے گا۔‘
اس آدمی نے مشورے پر عمل کیا، روزانہ یہی خوراک کھاتا رہا ۔ اس کا قد تو نہ بڑھا، لیکن اسے معدے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔
پھروہ نزدیکی چراگاہ میں، اپنے موٹے دوست بیل کے پاس گیا۔
بیل نے کہا،
’ روزانہ بہت زیادہ گھاس کھاو اور جو بھی تمہارے پاس آئے اس پر زور دار حملہ کرو۔ اس سے تمہارا قد ضرور بڑھے گا۔ میرا قد بھی ایسے ہی بڑھا ہے۔‘
اس نے ویسا ہی کیا، مگر گھاس کھانے سے بھی اس کی طبیعت بوجھل رہی اور وہ جس شخص پر بھی زور آزمائی کی کوشش کرتا، وہ اسے مذاق سمجھ کر، نظر انداز کر دیتا۔‘
اداسی اور ناامیدی کا مارا وہ آدمی اپنے پرانے رفیق بوڑھے اُلو (مغرب میں اُلو دانش کی علامت سمجھا جاتا ہے) سے ملا۔
اُلو نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور بولا،
’تم اپنا قد کیوں بڑھانا چاہتے ہو؟‘
’ تا کہ جب میری کسی سے لڑائی ہو، مجھے مار نہ پڑے۔‘
اس نے جواب دیا۔
اُلو نے پھر سوال کیا،
’ کیا ابھی تک تمہاری کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟‘
’ نہیں، ۔۔۔ مگر کسے خبر، کب کس سے لڑائی ہو جائے؟‘
اس نے پریشانی میں کہا۔
،، ہونہہ، میرے خیال میں، قد بڑھانے کے لیے یہ کسی طرح بھی کوئی معقول وجہ نہیں ۔‘
اُلو نے بات ہی ختم کر دی۔
آدمی نے تیزی سے ردِعمل دیا،
’ رُکو، رُکو۔۔۔۔ میں اس لیے لمبا ہونا چاہتا ہوں کہ دُور تک دیکھ سکوں۔‘
اُلو نے بیزاری سے پوچھا،
’ دُور تک کا نظارہ کرنے کے لیے کیا تم کبھی کسی درخت پر چڑھے ہو۔‘
’ جی، ہاں‘
آدمی نے گُھٹی سی آواز میں کہا اور ساتھ ہی کوئی معقول وجہ بھی ذہن میں لانے لگا جس سے وہ اُلو کو قائل کر سکے، اس کی خواہش قابلِ جواز ہے۔
لیکن بوڑھے اُلو نے اس کی الجھن محسوس کرتے ہوئے، دھیرے سے اسے نصیحت کی۔
’ میرے دوست، تمہارے جِسم کی گروتھ اور چھوٹے سائز میں کوئی مسئلہ نہیں، جس چیز کی اصل میں ضرورت ہے، وہ تمہارے دماغ کی گروتھ ہے۔
جسم ہمارا وہ مکان ہے، جس میں ہمیں مرتے دم تک رہنا ہے۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہو، اس کی قدر اور دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ مگر ’باڈی شمینگ‘ کے خوف سے، ہم اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں، ہم اس مکان کو مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق بدل نہیں سکتے۔
دانشمندی یہی ہے، ہم اپنے جسم کی قبولیت کسی شرمندگی یا ججمنٹ کے بغیر کرنے کی کوشش کریں اور اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ کریں؛
کوئی شہکارِ فن تکمیل کا دعویٰ نہیں کرتا
ادھورے پن کے دکھ ساجدہراک پیکر میں رہتے ہیں
( شاعر: اقبال ساجد)
جسم کی وہ گروتھ جو ہمارے بس میں نہیں، اس پر بے سود سرمایہ کاری کی بجائے ہمیں اپنے دماغ کی گروتھ پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ یہی گروتھ ہمیں ہماری حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ کرتی ہے جس میں دوسروں کی منفی آرا کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔
جسمانی نشوونما ایک عمر کے بعد رک جاتی ہے پر عقل و دانش کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ہم اپنا قد نہ بڑھا سکیں تو بھی ہمارے خیالات کی وسعت کی راہیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں ۔ یہی وہ راہیں ہیں جن پر چل کر انسان خودشناسی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔
🌹 Sharing is Caring 🌹