آپ کو بھی کسی سانحے کا انتظار ہے؟
ایک کچھوا کسی کیچڑ آلُود گڑھے میں جا گِرا اور اپنی چھوٹی چھوٹی ٹانگوں سے وہاں سے نکلنے کی بے سُود کوشش کر نے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اُس کا دوست خرگوش اُس کی مدد کرنے آن پہنچا لیکن اُن دونوں کی بھرپُور کوشش کے باوجود کچھوا اُس گڑھے میں پھنسا رہا۔
آخر، کچھوے نے مایُوس ہو کر کہا،
’’کوئی فائدہ نہیں ،میرے دوست! اب شاید میرا باہر نکلنا ناممکن ہے۔‘‘
دُوسرے دوست بھی اُدھر سے گزرے مگر کچھوے نے کسی کی بھی مدد لینے سے اِنکار کر دِیا کیوں کہ اب اسے یقین ہو گیا تھا، اُس کی موت اُسی گڑھے میں لِکھی ہے۔ اُس نے اپنے خول سے ایک بار سَر باہر نکالا اور آہ بھری،
’’سب اُمیدیں ختم ہو گئیں۔‘‘
کچھ دیر بعد، کچھوے کو شور سا سنائی دِیا تو اُسے محسوس ہوا کہ اُس کی طرف بڑھتے ہوئے ایک ٹریکٹر کا ٹائر اُس گڑھے کے اُوپر سے گزرنے والا ہے۔ اُس نے بِلا سوچے اپنی پُوری قوت لگا کر چھلانگ لگائی اوربحفاظت گڑھے سے باہر آ گیا۔ جب اُس رستے سے اُس کے دوستوں کا دوبارہ گُزر ہوا تو انھوں نے سوال کیا،
’’تُم باہر کیسے آئے؟ ہم نے تو سمجھا تھا کہ اب تُم کبھی باہر نہیں نکل پاو گے۔‘‘
کچھوے نے دھِیرے سے جواب دیا،
’’ شاید، میں کبھی باہر نہ نِکل پاتا، مگر پھِر میں نے دیکھا کہ ایک کِسان ٹریکٹر لیے مجُھے کُچلنے والا ہے اور تب تو مُجھے ہر حال میں باہر آنا تھا، سو میں نکل آیا۔‘‘
آپ کو بھی ایسے ہی کسی سانحے کا انتظار ہے؟ یا، پھر آپ اُس نوجوان کی طرح کِسی دھمکی کے اِنتظار میں ہیں، جِس سے پُوچھا گیا؛
’’یہاں، تُم کب سے کام کر رہے ہو؟‘‘
تو اُس نے جواب دِیا،
’’ جب سے، انھوں نے مجھے کام سے نکالنے کی دھمکی دی ہے۔‘‘
اِس سے پہلے کہ زندگی آپ کو دھمکی دے، آپ خُود ہی جنگ کا آغاز کر دیجیے۔
اینٹنی برجیس کو چالیس برس کی عُمر میں برین ٹیومر کا مرض لاحق ہوا تو وہ ’زِندگی کے اِس گڑھے ‘ سے نکلنے کی فِکر میں لگ گیا کیوں کہ ڈاکٹروں نے اسے ’دھمکی‘ دے دی تھی کہ ایک سال کے اندر اب موت کا ٹریکٹر اُس کو روندنے والا ہے۔وہ بے چارہ اب اِس فکر میں تھا کہ اُس کے بعد اُس کی بیوی معاشی معاملات کیسے سنبھال پائے گی۔ اُس کے اندر لکھنے کی صلاحیت تو تھی مگر اُس نے کبھی اِسے بطور پیشہ استعمال نہیں کیا تھا۔ اور اب صورت حال بدل چُکی تھی۔ اُس نے دیوانہ وار لِکھنا شرُوع کر دِیا۔ اُس کی لگن کا یہ عالم تھا کہ ایک سال کے اندر اُس نے پانچ ناول لِکھ ڈالے اور چھٹے پر کام جاری تھا مگر خوش قسمتی سے اُس کا مَرض آہستہ آہستہ ختم ہوتا گیا اور اُس نے اپنی زِندگی میں ستر سے زائد کتابیں تحریر کیں۔
اگر کینسر اُسے سزائے موت نہ سُناتا تو وہ کبھی بھی یہ کارنامہ سر انجام نہ دے پاتا۔
دوام چاہیے تو تصور کیجیے، آپ کو بھی اس گڑھے سے نکلنا ہے اور بقیہ زندگی کی شروعات ابھی سے ہو چکی ہے۔
کسی دانشور نے خبردار کِیا تھا،
’’ اپنے آج پر پُورا دھیان دو کیوں کہ یہ لمحۂِ موجود ہی زِندگی ہے اور اسی کے مختصر بہاو میں آپ کے وجود کا سارا جوہر سِمٹا پڑا ہے۔‘‘
🌹 Sharing is Caring 🌹