آپ کبھی بوڑھے نہ ہوں۔
آپ کبھی بوڑھے نہ ہوں، چاہے کتنی بھی طویل عمر کیوں نہ پا لیں۔ اس حیرت انگیز دنیا کے سامنے ہمیشہ ایک متجسس بچے کی طرح کھڑے رہیں، جس میں ہم پیدا ہوئے ہیں۔
(آئن سٹائن)
بڑھاپا عُمر کا ڈھلنا نہیں بلکہ ارادے کا زوال ہے۔ جو انسان جدوجہد ترک کر دیتا ہے، وہ زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے مر جاتا ہے۔ جدوجہد جسم اور روح دونوں کو جوان رکھتی ہے۔ اسی لیے، بڑھاپا جسمانی زوال سے کہیں زیادہ اپنے مقصد سے محرومی کی حالت ہے۔
گرینڈما موزِز نے پندرہ ہزار سے زیادہ ایسی مقبول عام پینٹنگز بنائیں جن میں دیہی زندگی کو موضوع بنایا گیا تھا۔ ستر سال تک اُس نے کبھی کوئی پینٹنگ نہیں بنائی اور اُس کا 25 فی صد کام سو سال کی عمر کے بعد کا ہے۔
جب وہ نو عمر تھی تو اُسے نیویارک کے ایک فارم میں کام کرنا پڑا۔ گرینڈ ما موزِز کا اصل نام اینا میری رابرٹ سَن تھا۔ اُس کی شادی فارم کے ایک اور ملازم ٹوم موزِز سے ہو گئی۔ پھر وہ کیمبرج ویلی، ورجینیا اپنے ایک چھوٹے سے فارم میں منتقل ہو گئے اور رفتہ رفتہ دس بچوں کے والدین بن گئے۔ جن میں سے پانچ کی وفات بچپن میں ہی ہو گئی۔
اینا کو سلائی کا بہت شوق تھا لیکن جوڑوں کے ورم کے باعث اُس کے ہاتھ اکثر اکڑے رہتے تھے۔ اٹھہتربرس کی عمر میں جب وہ یہ کام کرنے کے بالکل قابل نہ رہی تو اُس نے پینٹنگ بنانے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے احساس ہو گیا، وہ پینٹ برش کو نسبتًا سہولت سے پکڑ سکتی ہے۔ اُس نے پینٹنگز بنانا شروع کر دیں اور کیمبرج ویلی نمائش میں اپنی پینٹنگز پیش کِیں۔ وہاں اس کی ایک پینٹنگ کو انعام تو مِل گیا لیکن اُس کے بعد کوئی زیادہ تذکرہ نہ ہُوا۔
ایک روز نیویارک سِٹی میں مقیم ایک آرٹ کا دلدادہ جب کیمبرج ویلی سے گزر رہا تھا تو وہاں اس نے ایک میڈیکل سٹور پر اُس کی پینٹنگز دیکھیں۔ یہی وہ مبارک لمحہ تھا جب اُس کی تصاویر کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اُس کا ہر دلعزیز کام گریٹنگ کارڈز اور نیویارک سٹی کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں نمائشوں کی زینت بنا۔ رفتہ رفتہ وہ امریکا کی مشہور ترین فوک آرٹسٹ بن گئی۔
وہ سو برس کی عمر تک بڑی محنت سے پینٹنگز تخلیق کرتی رہی۔ تنگدستی، بیماری اور ذاتی صدمات کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری۔
اس کی زندگی کی کہانی اس بات کی طاقتور مثال ہے کہ کامیابی اور تخلیقی اظہار کے لیے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔
وہ کہتی ہے،
’’ اگر میں نے پینٹنگ شروع نہ کی ہوتی، تو بھی میں (خالی بیٹھنے کی بجائے) مرغیاں پال رہی ہوتی۔
اس کے نزدیک اہم یہ نہیں تھا، وہ کیا کر رہی ہے، بلکہ اہم یہ تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ کر رہی ہے۔
وہ موت تک متحرک رہی اور ہر عمر کے افراد کے دِلوں پر امید کا پیغام بن کر چھا گئی۔
آپ کبھی اتنے بوڑھے نہیں ہوتے کہ کوئی نیا مقصد نہ طے کرسکیں یا کوئی نیا خواب نہ دیکھ سکیں۔””
(سی- ایس- لیوس)
🌹 Sharing is Caring 🌹